Nawaiwaqt:
2026-06-03@04:38:58 GMT

مشہور ٹک ٹاکر سحرحیات اور سمیع رشید نے راہیں جدا کرلیں

اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT

مشہور ٹک ٹاکر سحرحیات اور سمیع رشید نے راہیں جدا کرلیں

مشہور ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر سحر حیات نے انسٹاگرام پر مداحوں کے ساتھ حالیہ سوال و جواب کے ایک سیشن کے دوران اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں اہم انکشاف کیا ہے۔ ایک مداح کی جانب سے طلاق سے متعلق کیے گئے سوال کے جواب میں سحر حیات نے پہلی بار کھل کر تصدیق کی کہ وہ اور ان کے سابق شوہر سمیع رشید اب ایک ساتھ نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی علیحدگی کے باوجود سمیع رشید ان کی بیٹی ایرہ کے والد رہیں گے اور اس حقیقت پر کسی قسم کا شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ سحر حیات نے اس موقع پر اپنی بیٹی کی تربیت سے متعلق بھی بات کی اور کہا کہ وہ ایرہ کو یہ سکھائیں گی کہ والد اور والدہ دونوں کا یکساں احترام کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ بچی کی اپنے والد سے ملاقات یا تعلق رکھنے کے معاملے پر کسی کو روکا نہیں گیا اور نہ ہی وہ کسی کو اس حوالے سے روکنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے خاندانی فیصلے ذاتی خواہشات پر نہیں بلکہ پاکستان کے قانون کے مطابق طے ہونے چاہئیں۔ سحر نے مداحوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ذاتی زندگی کے اس معاملے کو مزید زیرِ بحث نہ لایا جائے اور ان کی پرائیویسی کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سب کو ملکی قوانین کے بارے میں آگاہی ہونی چاہیے اور امید ظاہر کی کہ آئندہ اس موضوع پر غیر ضروری گفتگو نہیں کی جائے گی۔ واضح رہے کہ سحر حیات اور سمیع رشید نے دسمبر 2022 میں شادی کی تھی۔ شادی کے بعد جلد ہی ان کی ایک بیٹی ایرہ پیدا ہوئی جو اس وقت اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہے۔ کچھ ماہ قبل اس جوڑی کی طلاق سے متعلق افواہیں زیر گردش تھیں جنہیں اس وقت سمیع رشید نے مسترد کر دیا تھا۔ تاہم اب سحر حیات کی باضابطہ تصدیق نے ان افواہوں کو حقیقت میں بدل دیا ہے اور مداحوں کو ان کی ازدواجی زندگی کے اختتام کی مکمل خبر دے دی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سحر حیات

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا