جلالپورپیروالا، راشن کی تقسیم پر شہریوں کا دھاوا، پولیس کی کاروائی سے شہری زخمی، روڈ بلاک کردیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
تفصیل کے مطابق پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈگری کالج جلالپورپیروالامیں شہریوں نے سامان کی تقسیم پر دھاوا بولا ہے اور زبردستی مال قبضے میں لینے کی کوشش کی ہے جس پر پولیس نے کاروائی کی ہے، پولیس کے مطابق معمول کی تلخ کلامی ہوئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ملتان کی تحصیل جلالپور پیروالا میں سیلاب متاثرین کے سرکاری کیمپ میں راشن کی تقسیم پر بھگدڑ، شہریوں نے دھاوا بول دیا، پولیس کی دھاوا ختم کرانے کے لیے کاروائی، شہری زخمی ہوگیا،متاثرین نے پولیس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے روڈ بلاک کردیا، تفصیل کے مطابق پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈگری کالج جلالپورپیروالامیں شہریوں نے سامان کی تقسیم پر دھاوابولا ہے اور زبردستی مال قبضے میں لینے کی کوشش کی ہے جس پر پولیس نے کاروائی کی ہے، پولیس کے مطابق معمول کی تلخ کلامی ہوئی ہے جبکہ متاثرین کا کہنا ہے کہ ایک تو ہمیں امداد نہیں دے رہے دوسرا اینٹوں کے وار سے ہمارے بندوں کو زخمی کیا جارہا ہے، شہریوں نے پولیس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مرکزی شاہراہ کو بند کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی تقسیم پر شہریوں نے پولیس نے کے مطابق پولیس کے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔