Nawaiwaqt:
2026-06-03@07:14:39 GMT

قائداعظم کے نواسے اور اہلِ خانہ پر جعلسازی کا مقدمہ درج

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

قائداعظم کے نواسے اور اہلِ خانہ پر جعلسازی کا مقدمہ درج

ممبئی پولیس نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے نواسے اور معروف بزنس ٹائیکون نوسلی نیول واڈیا سمیت ان کے اہلِ خانہ اور چند دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔نوسلی پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی دستاویزات تیار کرکے عدالت میں استعمال کیے۔ نوسلی واڈیا کی عمر 81 برس ہے، اور وہ بھارت کے نمایاں بزنس خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق یہ مقدمہ میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کورٹ بوریولی کے حکم پر درج کیا گیا۔ عدالت نے بانگور نگر پولیس کو ہدایت دی کہ نوسلی واڈیا، ان کی اہلیہ مورین واڈیا، بیٹے نیس واڈیا اور جہانگیر واڈیا سمیت دیگر ساتھیوں کے خلاف دھوکا دہی اور جعلسازی کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے۔یہ کیس دراصل ایک 30 سال پرانے ڈیولپمنٹ ایگریمنٹ سے جڑا ہوا ہے جو واڈیا اور فیرانی ہوٹلز کے درمیان ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت مالاد کی زمین کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور واڈیا کو کل آمدنی کا 12 فیصد ملنا تھا۔ تاہم 2008 میں تنازعات کھڑے ہوگئے جس کے بعد معاملہ قانونی جنگ میں بدل گیا اور بمبئی ہائی کورٹ سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ تک جا پہنچا۔پیر کو درج ہونے والی نئی ایف آئی آر میں بھارتیہ نیا یا سنہیتا کی کئی دفعات شامل کی گئی ہیں، جن میں دھوکا دہی، جعلسازی، مجرمانہ سازش اور جعلی دستاویزات عدالت میں پیش کرنے جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ فیرانی ہوٹلز کے سی ای او مہندرا چاندے نے پولیس کو شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا کہ ملزمان نے 2010 میں بمبئی ہائی کورٹ کے ایک کمرشل مقدمے میں جعلی کاغذات استعمال کیے۔شکایت کنندہ کے مطابق انہوں نے پہلے بانگور نگر پولیس اسٹیشن اور پھر ممبئی پولیس کمشنر کو بھی آگاہ کیا، لیکن ایف آئی آر درج نہ ہونے پر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت کے حکم پر آخرکار پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔بانگور نگر پولیس کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ معاملہ ابھی تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں ہے اور چونکہ اس میں بڑی تعداد میں کاغذات شامل ہیں، اس لیے جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد ہی کوئی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔اخباری رپورٹ کے مطابق نوسلی واڈیا کے بیٹے نیس واڈیا سے اس معاملے پر رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ تبصرے کے لیے دستیاب نہ ہوسکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم

وفاقی آئینی عدالت نے بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی جانب سے دی جانے والی ہڑتالوں کی کالز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی ہڑتالیں شہریوں کے انصاف تک رسائی کے آئینی حق کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی نظام کو مفلوج کرنے والی ہڑتالیں نہ صرف سائلین کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ پہلے سے دباؤ کا شکار عدالتی ڈھانچے پر مزید بوجھ ڈالتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب وکلا تنظیمیں ہڑتال کی کال دیتی ہیں تو وکلا کو عدالتوں میں پیش ہونے سے روکا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مقدمات کی سماعت بغیر پیش رفت کے ملتوی ہو جاتی ہے اور سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عدالت کے مطابق پاکستان کا قانونی نظام پہلے ہی مقدمات کے انبار اور طویل التوا کا شکار ہے، جس کے باعث شہریوں کو فیصلوں کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ چاہے وکلا کی ہڑتال کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، اس سے انصاف تک رسائی میں رکاوٹ پیدا کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اور یہ آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

فیصلے میں ایک وکیل کے لائسنس سے متعلق کیس کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا بار کونسل نے وکیل کے قتل کے مقدمے میں نامزد ایس ایچ او کی قانونی نمائندگی کرنے پر وکیل کو پریکٹس سے روکا تھا، جس کے نتیجے میں اس کا لائسنس معطل کر دیا گیا۔ متاثرہ وکیل نے اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جہاں عدالت نے وکیل کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے لائسنس بحال کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور کی سونیا سے عائشہ بننے والی خاتون کیس کا فیصلہ، وفاقی آئینی عدالت نے والدین کی حوالگی کی درخواست خارج کردی

وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ وکیل کی قانونی نمائندگی کے حق کو محدود کرنا آئینی اصولوں کے منافی ہے، اور عدلیہ کے ذریعے دی جانے والی یہ بحالی قانون کی بالادستی اور انصاف تک رسائی کے بنیادی حق کو تقویت دیتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ