گردشی قرض سے متعلق معاہدہ، بجلی صارفین پر کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا؛وزارت خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزارت خزانہ نے بجلی کے شعبے میں 1225 ارب روپے کے گردشی قرض سے متعلق معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ معاہدے کو مالیاتی نظم و ضبط اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کی قیادت میں ٹاسک فورس نے توانائی بحران کے بڑے چیلنج پر قابو پا لیا۔ وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر اداروں کی مشترکہ کاوشوں سے معاہدہ طے پایا۔
وزارت خزانہ کے مطابق 660 ارب روپے کے پرانے قرضے ری سٹرکچر جبکہ 565 ارب روپے کی نئی فنانسنگ کا معاہدہ ہوا ہے۔ صارفین پر کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا اور ادائیگیاں پہلے سے عائد تین روپے 23 پیسے فی یونٹ سرچارج سے ہوں گی۔
عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے کی قیمتیں بلند ترین سطح سے نیچے آ گئیں
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 660 ارب روپے کی گارنٹیز سے زرعی، ایس ایم ای، ہاؤسنگ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری ممکن ہوگی۔
وزیر خزانہ کے مطابق یہ کامیابی مالیاتی نظم و ضبط اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی شعبے کے دیرینہ مسائل کو پائیدار اصلاحات کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔