کرپشن اور ناقص تفتیش میں ملوث خاتون سمیت ایف آئی اے کے 5افسران کو سخت سزائیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
راولپنڈی:
ایف آئی اے میں کرپشن اور ناقص تفتیش میں ملوث 5 افسران کو محکمانہ سزائیں سنا دی گئیں، 4 افسران کو نوکریوں سے برطرف جبکہ خاتون آفیسر کے عہدے کی تنزلی کرکے انسپکٹر سے سب انسپکٹر کر دیا۔
ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار راجا کی زیر صدارت اردلی روم کا انعقاد کیا گیا جس میں اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی۔
محکمانہ کارروائی کے تحت پانچ افسران کو سزا سنا دی گئی، دو انسپکٹر اور دو سب انسپکٹر کرپشن اور ناقص تفتیش پر نوکری سے برخاست کیے گئے جبکہ خاتون انسپکٹر کو ناقص تفتیش پر سب انسپکٹر کے عہدے پر تنزلی کی سزا دی گئی۔
سزا پانے والے اہلکار اسلام آباد، کراچی اور لاہور زون میں تعینات تھے۔
ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار راجا کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے میں کرپشن، غفلت اور ناقص تفتیش کرنے والوں کی کوئی جگہ نہیں، ادارے کو کالی بھیڑوں سے پاک کرنے کے لیے سخت احتسابی عمل جاری ہے۔
ڈی جی کا کہنا تھا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، احتسابی عمل سے ہی انسانی اسمگلنگ اور کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور ناقص تفتیش
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔