کوہستان مالیاتی اسکینڈل کے 4 ملزمان پلی بارگین کے تحت رقم واپس دینے پر تیار
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
پشاور:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں نامزد 4 ملزمان نے پلی بارگین کی درخواستیں دائر کر دیں۔
نیب ذرائع کے مطابق کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں نامزد چار ملزمان نے پلی بارگین کی درخواستیں احتساب عدالت میں دائر کی ہیں۔ درخواستیں دینے والوں میں سی این ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کلرک قیصر اور تین بے نامی دار شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بے نامی داروں میں قیصر کی اہلیہ اور 2 دیگر ملزمان شامل ہیں۔ ملزمان نیب کے ساتھ پلی بارگین کے لیے تیار ہیں۔ ملزمان کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے ذمے واجب الادا رقم نیب کو دینے کے لیے تیار ہیں۔
ذرائع کے مطابق نیب ملزمان کے ذمے واجب رقم اور اثاثوں کی جانچ پڑتال کرے گا۔ چانچ پڑتال کے بعد چیئرمین نیب منظوری دیں گے تو پھر پلی بارگین کی جائے گی۔
نیب کا کہنا ہے کہ ملزم قیصر اپرکوہستان اسکینڈل کے مرکزی ملزمان میں شامل ہے۔ کوہستان اسکینڈل میں ترقیاتی اسکیموں کے نام پر 40 ارب روپے نکالے گئے ہیں۔ ترقیاتی اسکیمیں گراؤنڈ پر موجود نہیں جب کہ پیسے نکالے گئے ہیں۔
ملزم نے اپنے نام، اپنی اہلیہ اور دیگر رشتے داروں کے نام منقولہ اور غیر منقولہ اربوں کے اثاثے بنائے ہیں۔ ملزم اپنے بے نامی داروں کے ساتھ پلی بارگین کے لیے تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پلی بارگین
پڑھیں:
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی(Attaullah Khan Esakhelvi) نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنی آخرت کی تیاری اور اپنی قبر سے متعلق گفتگو کی ہے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے پوڈکاسٹ میں بتایا کہ میں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے، میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا، ورنہ بعد میں خود دیکھ لیں گے، ہمارا خاندانی قبرستان ہے اور میں نے وہاں اپنے لیے ایک قبر مخصوص کروا رکھی ہے، ساتھ کچھ مزید جگہ بھی ہے، ایک میری اہلیہ کے لیے بھی ہے، اگرچہ یہ بات میں نے مذاق میں کہی تھی، اصل میں صرف اپنی قبر تیار کروائی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔
مزیدپڑھیں:بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے بتایا کہ فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروانے کے بعد میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اپنی آخری آرام گاہ بھی وہیں ہونی چاہیے۔
گلوکار کا کہنا ہے کہ والدہ، عزیز و اقارب اور قریبی دوستوں کی وفات نے مجھے زندگی اور موت کے بارے میں زیادہ سوچنے پر مجبور کیا اور میں صرف اتنی دعا کرتا ہوں کہ اللّٰہ مجھے پُرسکون موت عطاء فرمائے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔