شادی ختم ہونے پر چپ کیوں رہیں؟ انوشے عباسی نے 6 سال بعد خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
پاکستان کی معروف اداکارہ انوشے عباسی نے پہلی بار اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی شادی 2019ء میں اختتام پذیر ہو چکی تھی۔
انوشے عباسی نے حال ہی میں اداکارہ اُشنا شاہ کے شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے انڈسٹری اور ذاتی زندگی کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے پہلی بار اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی شادی 2019ء میں اختتام پذیر ہو چکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ میرا سیٹھی کی طویل خاموشی کے بعد طلاق کی تصدیق، وجہ کیا بتائی؟
اداکارہ نے بتایا کہ اس خبر کو انہوں نے اس وقت منظرِ عام پر لانے سے گریز کیا کیونکہ ان کی والدہ شدید علیل تھیں۔ انوشے نے کہا کہ ’میں نہیں چاہتی تھی کہ لوگ میری والدہ کی عیادت کے دوران ان کی صحت کے بجائے میری طلاق کے بارے میں سوالات کریں، اسی لیے میں نے یہ معاملہ میڈیا سے مخفی رکھا‘۔
View this post on Instagram
A post shared by Galaxy Lollywood (@galaxylollywood)
انہوں نے مزید کہا کہ والدہ کی بیماری کے علاوہ وہ خود بھی اس معاملے پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں، اور اسی خاموشی کے دوران انہوں نے ذاتی طور پر خود کو سنبھالا۔
یہ بھی پڑھیں: ’دل کا خانہ خالی ہوگیا‘، اداکار ارباز خان کی خوشبو سے طلاق کی تصدیق
انوشے عباسی نے بتایا کہ ان کی والدہ کا انتقال 2021ء میں ہوا، جس کے بعد ان کے لیے حالات مزید مشکل ہو گئے، تاہم ان کی فیملی نے اس کٹھن وقت میں ایک دوسرے کا مکمل ساتھ دیا۔
خیال رہے کہ انوشے عباسی نے 2014 میں پاکستان کے سابق کرکٹر مرحوم تسلیم عارف عباسی کے بیٹے اور اداکار اینان عارف عباسی سے شادی کی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انوشے عباسی انوشے عباسی شادی انوشے عباسی طلاق پاکستانی ڈرامے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انوشے عباسی طلاق پاکستانی ڈرامے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔