مہدی آباد کے دورے کے موقع پر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ سید مقاومت کی پہلی برسی کے موقع پر ہم اس عظیم مجاہد کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں جسکی پوری زندگی جہاد فی سبیل اللہ میں گذری۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے مہدی آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے غالب حسین گولاٹو، زوار دلدار حسین، فضل حسین ڈومکی اور دیگر افراد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے غالب حسین گولاٹو کو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر ہار پہنا کر مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر مجلسِ علماء مکتب اہل بیت کے ضلعی صدر علامہ سیف علی ڈومکی اور ایم ڈبلیو ایم عزاداری ونگ کے ضلعی رہنماء نور الدین گولاٹو بھی ان کے ہمراہ تھے۔
 
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ سید مقاومت کی پہلی برسی کے موقع پر ہم اس عظیم مجاہد کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں جس کی پوری زندگی جہاد فی سبیل اللہ میں گذری۔ وہ جو وقت کے فرعون کے لیے خوف کی علامت تھا، جو مظلوموں اور بے سہاروں کے لیے امید کی کرن تھا۔ جو رہبر معظم کو توانا بازو اور قابل فخر کمانڈر تھا۔
 
انہوں نے کہا کہ سید مقاومت، شہید سید حسن نصر اللہ عالم اسلام اور عالمِ تشیع کے وہ عظیم رہنما تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی عصرِ حاضر کے فرعونوں اور عالمی استکباری قوتوں کے خلاف جدوجہد میں بسر کی۔ ہم ان کے مشن اور فکر سے تجدید عہد کرتے ہیں کہ ان کے راستے کو جاری رکھیں گے۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ وادی تیراہ میں جو افسوسناک واقعہ پیش آیا اس پر پوری قوم غمزدہ ہے۔ آئین اور قانون کی روشنی میں ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ معصوم اور بے گناہ افراد کے قتل ناحق پر فوری غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور مظلوم خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
 
علامہ مقصود علی ڈومکی نے اسرائیل کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فلوٹیلا کی سکیورٹی کے حوالے سے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک، اسلامی ممالک اور او آئی سی کو بھی اس ضمن میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ فلسطینی عوام کے حق میں اٹھنے والی عالمی آواز کو دبایا نہ جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ مقصود علی ڈومکی نے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا

انہدامی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی، یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جسکو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹادیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر وارانسی میں گزشتہ شب مودی حکومت نے 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مسمار کر دیا اور ساتھ ہی وہاں موجود مزار اور قبرستان کے کچھ حصہ کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی۔ یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جس کو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یعنی بدھ کی صبح جب لوگ اس جگہ سے گزرے تو مسجد اور مزار کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔

ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کل دیر شب تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران 1000 سے زائد جوانوں کے ساتھ "از غیب شہید مسجد" کے پاس پہنچے اور علاقہ کا معائنہ کیا۔ ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال اور اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے مسجد کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کروائی اور لوگوں کی آمد و رفت پر روک لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی اس جگہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ یہ کام ہوا اور جب تک مسجد منہدم ہونے کی خبر لوگوں تک پہنچی، ملبہ بھی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔

انتظامیہ نے مسجد منہدم کرنے کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب کرنے کی کوئی آفیشیل وجہ نہیں بتائی۔ پولیس اہلکاروں نے یہ ضرور کہا کہ ٹریفک سے بچنے کے لئے رات میں کارروائی کی گئی۔ راج گھاٹ واقع کاشی ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں موجود اس مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے اے سی پی شیوہری مینا نے افسروں کے ساتھ پہنچ کر جائزہ لیا تھا۔ بعد ازاں سخت سیکورٹی میں مزار اور اس کے قریب بنی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بھدؤ چنگی واقع قلعہ کوہنا علاقہ میں "از غیب شہید کی مسجد اور قبرستان کئی سالوں سے تنازعہ کا شکار رہا۔

مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ مسجد 200 سال قدیم تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے، جن کا 2 ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے کی پرانی زمین ہے، جس پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر پہلے مزار بنائی، اور بعد میں مسجد و قبرستان کی تعمیر کی گئی۔ 2024ء میں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے بعد زمین کی پیمائش کرائی گئی اور مسجد کی تعمیر ناجائز قبضہ والی زمین پر ہونے کا پتہ چلا۔ از غیب شہید مسجد کی انہدامی کارروائی سے متعلق رپورٹ "این ڈی ٹی وی" پر بھی شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ ایک ہنومان مندر بھی تھا، اسے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وسیم، مصباح اور فخرِ عالم نے حج کرکے بال کیوں نہیں منڈوائے؟
  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان