آئین کو متنازع بنانا پاکستان کی جمہوری اساس پر حملہ ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
اپنے بیان میں علامہ مقصود ڈومکی نے ایم ڈبلیو ایم کے کارکنان اور ملک کی تمام سیاسی و عوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ قوم کی رہنمائی کرتے ہوئے آئین پاکستان کے تحفظ کیلیے میدان میں آئیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت اور صوبہ سندھ کے آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آئین پاکستان وہ متفقہ اور قابل احترام دستاویز ہے جس پر ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا اتفاق رائے ہے۔ آئین کو متنازعہ بنانا دراصل اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جمہوری اساس پر حملہ ہے، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم ایسے کسی فیصلے کو قبول نہیں کرے گی جو ذاتی مفادات کے تحفظ، شخصی آمریت کو طول دینے یا عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے کے لیے کیا جائے۔ ایسے اقدامات نہ صرف جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ملک کے آئینی و اخلاقی تشخص کے بھی منافی ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے چیئرمین محمود خان اچکزئی اور قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر پوری قوم کو اس کالے قانون کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔ انہوں نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے کارکنان اور ملک کی تمام سیاسی و عوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ قوم کی رہنمائی کرتے ہوئے آئین پاکستان کے تحفظ کے لیے میدان میں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اندھیرے میں رکھ کر فارم 47 کے جعلی حکمران اپنے چہروں پر خود کالک مل رہے ہیں، اور یہ رسوائی ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔ جنہوں نے کبھی "ووٹ کو عزت دو" کا نعرہ لگایا تھا، آج وہی عوام کی رائے اور جمہوریت سے خوفزدہ ہیں اور جمہوری نظام پر وار کر رہے ہیں۔ علامہ ڈومکی نے کہا کہ گزشتہ پچاس برسوں سے پیپلز پارٹی یہ کریڈٹ لیتی آئی ہے کہ اس نے قوم کو متفقہ آئین دیا، مگر افسوس آج وہی جماعت آئین پر حملہ آور ہے اور اس کی روح کو مسخ کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آئین پاکستان علامہ مقصود پاکستان کے نے کہا کہ ڈومکی نے
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔