فوت یا شدید بیمار عازمین کے حوالے سے وزارت مذہبی امور کی پالیسی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
—فائل فوٹو
مجبوری کے باعث حج پر نہ جانے والے رجسٹرڈ عازمین کے لیے اچھی خبر سامنے آگئی۔ فوت یا شدید بیمار عازمین کے حوالے سے وزارت مذہبی امور کی پالیسی سامنے آگئی۔
دستاویز کے مطابق فوت ہونے والے رجسٹرڈ شہری کی جگہ کوئی بھی رشتہ دار حج پر جا سکتا ہے، مجبوری کی وجہ سے حج پر نہ جانے والا شخص بھی کسی کو نامزد کر سکتا ہے۔ اس شخص کو رقم واپس لینے کا بھی اختیار ہو گا۔
رقم واپسی یا متبادل شخص کو حج پر بھجوانے کے لیے ٹھوس وجہ بتانا ہوگی، رجسٹرڈ حاجی کی بیماری یا انتقال کا دستاویزی ثبوت بھی لازمی قرار دے دیا گیا۔
اس حوالے سے وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ حج پر نہ جانے کی وجہ درج کر کے اسٹیمپ پیپر جمع کروانا ہوگا، درخواست کے ہمراہ بینک رسید اور شناختی کارڈ کی کاپی بھی دینا ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔