سندھ کابینہ میں ردوبدل کا امکان ،کس کو کونسی وزارت ملے گی؟جانیے
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ کابینہ میں ردوبدل کئے جانے کا امکان ہے،کس کو کونسی وزارت ملے گی، اس حوالے سے تفصیلات سامنے آ گئیں۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق رکن اسمبلی اسماعیل راہو کو سندھ کابینہ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ وزیرلیبر شاہد تھہیم سے وزارت واپس لئے جانے کا امکان ہے۔
اسی طرح سعید غنی سے بلدیات، ناصر شاہ سے وزارت منصوبہ بندی واپس لئے جانے کا امکان ہے۔جام خان شورو کو محکمہ منصوبہ بندی کا اضافی قلمدان دیئے جانے کا امکان ہے۔
سعید غنی کو محکمہ لیبر کا قلمدان تفویض کئے جانے کاامکان ہے۔معاون خصوصی جبار خان کو محکمہ ریلیف کا قلمدان دیا جاے گا، معاون خصوصی علی راشد کو آئی ٹی کا محکمہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاکستان اور بھارت 41 سال میں پہلی مرتبہ ایشیاء کپ کے فائنل میں آمنے سامنے ہوں گے
ناصر حسین شاہ کو دوبارہ محکمہ بلدیات دیئے جانے کا امکان ہے۔گیان چندایسرانی کو بھی سندھ کابینہ میں شامل کئے جانے کا امکان ہے۔کابینہ میں شامل مشیر و معاونین حصوصی کے قلمدان بھی تبدیل کئے جائیں گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: جانے کا امکان ہے سندھ کابینہ میں
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں