وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کوٹ پر لگی جنگی جہاز کی پن پر سوشل میڈیا صارفین میں بحث چھڑ گئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر دیکھ کر بعض صارفین نے کہا کہ وہ اسے بھارت کے خلاف پاکستان کی جیت کے اعتراف کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کچھ صارفین نے کہا کہ ٹرمپ نے یہ پن پہن کر مودی کو پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔
ایک بھارتی صارف نے مودی کو ٹیگ کر کے لکھا کہ ’یہ بہت بڑا پیغام ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل اور مارکو روبیو ہاتھ میں ہاتھ ڈالے خوشگوار موڈ میں نظر آئے
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی ہے کہ ’ٹرمپ نے ترک صدر اردوان کے ساتھ ملاقات کے لیے کوٹ پر ایف 22 ریپٹر جہاز کی سونے سے بنی پن لگائی تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے اردوان سے ملاقات کی تھی۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو عظیم رہنما اور شاندار شخصیت قرار دے دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ ماشل عاصم منیر سے ملاقات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات کہی تھی، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ شہباز شریف اور عاصم منیر شاندار شخصیت ہیں۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ ماشل عاصم منیر کی امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات ہوئی تھی۔
وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق وزیر اعظم نے امریکا کے صدر کو دورۂ پاکستان کی دعوت دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو امن کی علمبردار شخصیت قرار دیا اور پاک بھارت جنگ میں جرات مردانہ کردار پر ان کی ستائش کی۔
وزیر اعظم نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ بندی سے جنوب ایشیاء میں بڑا سانحہ ہونے سے روک دیا۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف اعظم شہباز شریف شہباز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ نے نے کہا

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری