ٹرمپ کے کوٹ پر لگی جنگی جہاز کی پن پر سوشل میڈیا صارفین میں بحث چھڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کوٹ پر لگی جنگی جہاز کی پن پر سوشل میڈیا صارفین میں بحث چھڑ گئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر دیکھ کر بعض صارفین نے کہا کہ وہ اسے بھارت کے خلاف پاکستان کی جیت کے اعتراف کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کچھ صارفین نے کہا کہ ٹرمپ نے یہ پن پہن کر مودی کو پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔
ایک بھارتی صارف نے مودی کو ٹیگ کر کے لکھا کہ ’یہ بہت بڑا پیغام ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل اور مارکو روبیو ہاتھ میں ہاتھ ڈالے خوشگوار موڈ میں نظر آئے
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی ہے کہ ’ٹرمپ نے ترک صدر اردوان کے ساتھ ملاقات کے لیے کوٹ پر ایف 22 ریپٹر جہاز کی سونے سے بنی پن لگائی تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے اردوان سے ملاقات کی تھی۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو عظیم رہنما اور شاندار شخصیت قرار دے دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ ماشل عاصم منیر سے ملاقات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات کہی تھی، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ شہباز شریف اور عاصم منیر شاندار شخصیت ہیں۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ ماشل عاصم منیر کی امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات ہوئی تھی۔
وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق وزیر اعظم نے امریکا کے صدر کو دورۂ پاکستان کی دعوت دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو امن کی علمبردار شخصیت قرار دیا اور پاک بھارت جنگ میں جرات مردانہ کردار پر ان کی ستائش کی۔
وزیر اعظم نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ بندی سے جنوب ایشیاء میں بڑا سانحہ ہونے سے روک دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف اعظم شہباز شریف شہباز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ نے نے کہا
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔