اسلام ٹائمز: وہ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے اختتام کرتا ہے کہ ہر نوآبادیاتی منصوبہ جو قتل و غارت اور جھوٹ پر بنایا گیا تھا منہدم ہو گیا، اور وہ گر کر رہیگا، دنیا اس لمحے کو یاد رکھے گی، جب ایک ایٹمی طاقت نے اپنی انسانیت کھو دی اور اپنا سب کچھ ہی کھو دیا۔ اسلام ٹائمز۔ عبرانی زبان کے اخبار اہرنوت نے اسرائیلی سیاسی تجزیہ کار لیور بین شاول کے لکھے ہوئے ایک مضمون میں اسرائیلی صیہونی حکومت کے مستقبل کی تاریک اور خوفناک تصویر پیش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اگلے دو سالوں میں مکمل طور پر تباہی کے راستے طے کر لے گا۔ ان کے بقول، آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض سیکورٹی یا سیاسی بحران نہیں ہے، بلکہ ایک صیہونی ریاست کی بقا کے لئے حقیقی خطرہ ہے، جو صہیونی منصوبے کے ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے۔ بین شاول اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فلسطینی مزاحمت، نہ صرف فوجی میدان میں، بلکہ نفسیاتی اور سیاسی سطحوں پر بھی، "ناقابل تسخیر ریاست" کے افسانے کو جھٹلانے اور دنیا کے سامنے "اسرائیل" کو کمزور ریاست ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

خاموش فرار: تباہی کی علامت
تجزیہ کار مقبوضہ علاقوں کے اندر روزمرہ کے مناظر کو ظاہر کرتا ہے: کہ 
- یورپ، امریکہ اور کینیڈا کے ٹکٹ تیزی سے فروخت ہو رہے ہیں۔
- سفارتخانے امیگریشن کی درخواستوں سے بھر گئے ہیں۔
- خاندان خاموشی سے اپنے اثاثے بیچ رہے ہیں۔
- اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیج رہے ہیں۔
- فلسطینی مزاحمت، نہ صرف فوجی میدان میں، بلکہ نفسیاتی اور سیاسی سطحوں پر بھی، "ناقابل تسخیر ریاست" کے افسانے کو جھٹلانے اور دنیا کے سامنے "اسرائیل" کو کمزور ریاست ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ جانے والوں کا واپسی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
- ہم ہجرت نہیں کر رہے… ہم ڈوبتے ہوئے جہاز سے چوہوں کی طرح بھاگ رہے ہیں۔
- وہ تلخ لہجے میں کہتا ہے کہ یہاں ایک بے اختیار فوج اور حیران و سرگرداں حکومت ہے۔ 

بین شاول پوچھتا ہے کہ ایسا کون سا ملک ہے جس کے دارالحکومت اور قصبے روزانہ بمباری کی زد میں ہیں اور ہم کوئی مناسب جواب نہیں دے سکتے؟، ایسی کون سی فوج ہے جو ہزاروں فضائی حملوں سے غزہ کو اپنے گھٹنوں کے بل نہیں لا سکتی؟۔ ان کی رائے میں صیہونی حکومت بے بس اور بے مقصد ہے اور وزراء کچھ حاصل کیے بغیر شور مچانے اور دھمکیاں دینے پر خوش ہیں۔

حماس نے ہمارے وہم کے بت توڑ دیئے ہیں:
تجزیہ کار کے خیال میں حماس اسرائیل کے سیاسی اور عسکری ڈھانچے کی کمزوری اور خوف کو بے نقاب کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ مغربی کنارے اور مقبوضہ علاقوں کے اندر غم و غصے کے شعلے بھڑکا رہی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ آج ہمارے پاس بغیر کسی منصوبے کے، بغیر کسی سمت کے، اور بغیر کسی اخلاقی جواز کے حکومت چل رہی ہے، ایک ایسی حکومت جو بچوں کو گرفتار کرتی ہے، شہریوں کو مارتی ہے، اور ساتھ ہی دنیا سے ان کاموں کی تعریف ہر وہ حکومت جو جبر پر کھڑی تھی، زوال پذیر ہو گئی، گھڑی چل پڑی ہے اور جب 'اسرائیل' گرے گا۔ کرنے کی توقع بھی رکھتی ہے۔

محاصرہ شدہ مورچہ بند آبادیاں: ایک تاریک مستقبل کی نشانی
بین شاول کے مطابق اگلے دو سالوں میں اسرائیل کو دو میں سے ایک منظرنامے کا سامنا کرنا پڑے گا: یا ایک بند جزیرہ اور ایک مسلح یہودی قلعہ بننا جس کی بقا کا انحصار صرف اور صرف امریکی حمایت پر ہے۔ یا دوسروں کی زمینوں پر صیہونی قبضے کا مکمل خاتمہ اور یہ زمینیں ان کے اصل مالکان کو واپس کرنا۔

وہ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے اختتام کرتا ہے کہ ہر نوآبادیاتی منصوبہ جو قتل و غارت اور جھوٹ پر بنایا گیا تھا منہدم ہو گیا، ہر وہ حکومت جو جبر پر کھڑی تھی، زوال پذیر ہو گئی، گھڑی چل پڑی ہے اور جب 'اسرائیل' گرے گا، اور وہ گر کر رہیگا، دنیا اس لمحے کو یاد رکھے گی، جب ایک ایٹمی طاقت نے اپنی انسانیت کھو دی اور اپنا سب کچھ ہی کھو دیا۔

یہ مضمون صہیونی معاشرے میں گہری نفسیاتی اور سیاسی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک ایسی تقسیم جو ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کی جانب سے ہم آہنگی ظاہر کرنے کی کوششوں کے باوجود، حکومت کا مین اسٹریم میڈیا بھی اب صہیونی منصوبوں کے زوال کے قریب آنے کے بارے میں کھل کر بات کر رہا ہے۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بین شاول کرتا ہے رہے ہیں ہو گئی ہے اور

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم