کوئٹہ کا منفرد جمعہ بازار، کم داموں پر امپورٹڈ کپڑے عوام کے لیے نعمت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اشیائے ضرورت کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کے باوجود کوئٹہ کے شہریوں کے لیے ایک ایسی سہولت موجود ہے جو خاص طور پر متوسط طبقے کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ شہر کے وسطی علاقے مسجد روڈ پر ہر جمعے کو لگنے والا ’جمعہ بازار‘ عوام کو کم قیمت پر امپورٹڈ کپڑے فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: ’آرٹسٹ کیفے تخلیق، مکالمے اور ثقافت کا نیا مرکز
بازار میں بند دکانوں کے چبوتروں پر مختلف ورائٹی کے مردانہ و زنانہ کپڑے دستیاب ہوتے ہیں۔
تاجروں کے مطابق ایسے کپڑے جن کی قیمت عام مارکیٹ میں 5 ہزار سے 5 ہزار روپے تک ہوتی ہے یہاں صرف 1800 سے تین ہزار روپے میں مل جاتے ہیں۔
اس بازار میں کپڑوں کی وسیع رینج موجود ہے جس میں کاٹن، مکس کاٹن، واش اینڈ ویئر، کھدر اور موسم کے لحاظ سے دیگر اقسام شامل ہیں۔
کپڑے افغانستان اور ایران سے درآمد ہوتے ہیں اسی وجہ سے ان کی کوالٹی اور ڈیزائن عوام میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیے: کوئٹہ کے داؤد خان نے اپنی بنجر زمین کیسے آباد کی؟
بازار میں خریداروں کا رش ہر وقت لگا رہتا ہے۔ ایک خریدار نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے دور میں یہ جمعہ بازار ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہاں ہمیں وہ کپڑے بھی مناسب داموں میں مل جاتے ہیں جو عام دکانوں پر ہماری پہنچ سے باہر ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ میں کپڑے کی وہ مارکیٹ جہاں کم داموں میں سوٹ دستیاب ہیں
شہریوں کے مطابق ایسے بازار متوسط اور غریب طبقے کے لیے بڑی سہولت ہیں کیونکہ برانڈڈ اور امپورٹڈ کپڑوں کو عام شہری اپنی استطاعت کے مطابق خرید سکتے ہیں۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کوئٹہ کوئٹہ جمعہ بازار کوئٹہ کپڑے کوئٹہ میں سستے امپورٹڈ کپڑے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کوئٹہ کوئٹہ جمعہ بازار
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔