مریم نواز جاگ پنجابی جاگ کے نعرے لگا رہی ہیں، اگر پنجابی جاگ گئے تو تیرا کیا ہوگا ،مفتاح اسماعیل نے سوال اٹھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
کراچی (آئی این پی )سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی تک معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے، اگر نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کرنے تو پھر صوبے بنائیں۔
انڈس کونکلیو کے دوسرے روز سوشل سیکٹر ڈویلپمنٹ پر پینل ڈسکشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چہرے بدلے لیکن ترقی نہیں ہوئی، لاہور کے مال روڈ پر ہر جگہ تصاویر ہی نظر آتی ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اگر گورننس ٹھیک نہیں تو پھر تبدیلی لانی پڑے گی، پاکستان بہت عرصے سے ٹھیک نہیں چل رہا، حکومت نے کبھی ڈلیور نہیں کیا، حکومت نے کبھی اچھی تعلیم اور صحت کی سہولیات نہیں دیں۔
ایمل ولی خان سے وفاق کے بعد خیبر پختونخوا پولیس کی سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی
سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 6 برسوں میں ٹیکس اتنا ہوگیا کہ انکم کم ہوگئی، دو کروڑ 70 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، پنجاب کے اندر ایک کروڑ 10 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، سندھ میں 70 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2019 کے بعد پاکستان کے ہیومن انڈیکس میں 6 پوائنٹ کم ہوئے، حکومت ٹیکس تو لیتی ہے لیکن سہولیات نہیں دے رہی، ہم تعلیم، صحت میں فیل ہو گئے ہیں، بھارت، بنگلا دیش ہم سے آگے نکل گئے، پاکستان میں قوت خرید تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے یہ قوم غریب ہو رہی ہے، ہم ہر ملک سے پیچھے کی طرف جا رہے ہیں، پولیس کا نظام ٹھیک نہیں ہے، خطے میں سب سے مہنگی بجلی، گیس کا ریٹ ہے، ملک سے بڑی کمپنیاں بزنس چھوڑ کر جا رہی ہیں۔ سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اشتہارات لیڈران کے ہوتے ہیں مگر کبھی آبادی میں کمی کے حوالے سے کوئی اشتہار نہیں ہوتا، پاکستان کی گورننس فیل ہو چکی ہے، سٹرکچر آف گورننس خراب ہوگیا اس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بہن مریم نواز جاگ پنجابی جاگ کے نعرے لگا رہی ہیں، اگر پنجابی جاگ گئے تو تیرا کیا ہوگا ، پنجاب کے سکول، ہسپتال ایک بیوروکریٹ چلا رہا ہے، بچے، بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
بٹ کوائن کا نیا ریکارڈ، قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
انہوں نے کہا کہ کسی کی نیت خراب نہیں گورننس کا سٹرکچر خراب ہے، جب بچوں کو تعلیم نہیں دیں گے تو غریب پھر کیسے آگے بڑھے گا؟ امیر لوگوں کے بچے امیر ہو جاتے ہیں اس طرح ملک چلایا جا رہا ہے۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہر ڈویژن کوصوبہ ہونا چاہیے، بلوچستان میں شفاف الیکشن کے ذریعے اختیارات کو نچلی سطح منتقل کیا جائے، جب نچلی سطح پر اختیارات منتقل ہوں گے تو لوگوں کے مسائل حل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو 4 چیزیں دی ہوئی ہیں، صوبوں کو ایجوکیشن، صحت، پولیس، سول سروس کا نظام دیا ہوا ہے، اگر نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کریں گے تو پھر صوبے بنائیں۔
ویڈیو : نیا پنجاب وجود میں آنے لگا، سینکڑوں گاؤں میں صاف پانی کی فراہمی، مریم نواز کا وعدہ پورا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مفتاح اسماعیل نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ نچلی سطح پر پنجابی جاگ ٹھیک نہیں
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔