اولمپک گولڈ میڈلسٹ کی وراثت پر مودی کا وار
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی حکومت نے پدم شری ایوارڈ یافتہ اور اولمپک ہاکی کے لیجنڈ محمد شاہد کے گھر کا ایک حصہ سڑک کی توسیع کے نام پر مسمار کر دیا، جس پر ان کے خاندان کے ساتھ ساتھ سیاسی حلقوں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد شاہد کے معمر والد گھر کو گرتا دیکھ کر عملے سے بار بار ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتے رہے کہ کم از کم ایک دن کی مہلت دے دی جائے، مگر کسی نے ان کی فریاد نہ سنی۔
چند روز قبل چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوائی نے کہا تھا کہ ملک میں “قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے، بلڈوزر کی نہیں”، لیکن محمد شاہد کے گھر پر بلڈوزر چلنے کے بعد اس بیان پر سوال اٹھ گئے ہیں کہ اگر انصاف بلڈوزر نہیں تو پھر انصاف کیا ہے؟
یہ واقعہ بی جے پی حکومت کے سڑک توسیعی منصوبے کے دوران پیش آیا۔ محمد شاہد کے رشتہ داروں کے مطابق نہ تو انہیں کوئی معاوضہ دیا گیا اور نہ ہی متبادل رہائش فراہم کی گئی۔ ان کی بھابھی نازنین نے بتایا کہ “ہمارے پاس رہنے کے لیے اب کوئی دوسری جگہ نہیں بچی۔”
کزن مشتاق کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب خاندان شادی کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دیگر علاقوں میں سڑک کی چوڑائی 21 میٹر رکھی گئی، لیکن ان کے محلے میں اسے غیر معمولی طور پر 25 میٹر تک بڑھا دیا گیا، جس سے ان کا گھر سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ مشتاق نے خبردار کیا کہ اگر ناانصافی کا یہ سلسلہ نہ رکا تو خاندان سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمد شاہد کے
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔