Jasarat News:
2026-06-03@00:42:55 GMT

بچے سکہ، مقناطیس یا کچھ اور نِگل لیں تو کیاکریں؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ہر چیز کو منہ میں ڈالنا اور چکھنا چھوٹے بچوں کی نشوونما کے دوران ایک قدرتی بات ہے۔ تاہم اپنی اس فطرت کے باعث اکثر بچے ایسی اشیا نگل لیتے ہیں جو جسم کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ ان چیزوں میں سکے، کھلونے، بٹن، سیل وغیرہ بچوں کے پیٹ میں جا کر سنگین طبی مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں میں اِن واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے والدین کی آگاہی بہت ضروری ہے۔’اگر کوئی ایسی چیز بچے کی غذائی نالی میں داخل ہو جائے تو بچہ روئے گا اور کچھ دیر بعد وہ پُرسکون ہو جائے گا۔ اس کے بعد آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں اور سینے اور پیٹ کا ایکسرے کروائیں اور ان کے مشورے کے مطابق علاج کریں۔ایسی چیز غذائی نالی سے گزرتی ہے تو 90 فیصد معاملات میں یہ معدے میں جاتی ہے۔ پھر کیلے جیسے زیادہ فائبر والے پھل کھانے یا جلاب آور دوا کھانے سے اسے پاخانے کے راستے نکلنے میں مدد مل سکتی ہے۔اگر کوئی چیز سانس کی نالی میں اٹک گئی ہے تو بھی ایمرجنسی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر وہ شے تھوک کے ساتھ باہر نہ آئے تو برونکوسکوپی کی جاتی ہے۔ بہت کم کیسز میں سرجری کی جاتی ہے۔‘ ان واقعات سے پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کو روکنے کے لیے والدین کی آگاہی ضروری ہے۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔

مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔

متعلقہ مضامین