Jasarat News:
2026-07-24@13:41:13 GMT

بچے سکہ، مقناطیس یا کچھ اور نِگل لیں تو کیاکریں؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ہر چیز کو منہ میں ڈالنا اور چکھنا چھوٹے بچوں کی نشوونما کے دوران ایک قدرتی بات ہے۔ تاہم اپنی اس فطرت کے باعث اکثر بچے ایسی اشیا نگل لیتے ہیں جو جسم کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ ان چیزوں میں سکے، کھلونے، بٹن، سیل وغیرہ بچوں کے پیٹ میں جا کر سنگین طبی مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں میں اِن واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے والدین کی آگاہی بہت ضروری ہے۔’اگر کوئی ایسی چیز بچے کی غذائی نالی میں داخل ہو جائے تو بچہ روئے گا اور کچھ دیر بعد وہ پُرسکون ہو جائے گا۔ اس کے بعد آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں اور سینے اور پیٹ کا ایکسرے کروائیں اور ان کے مشورے کے مطابق علاج کریں۔ایسی چیز غذائی نالی سے گزرتی ہے تو 90 فیصد معاملات میں یہ معدے میں جاتی ہے۔ پھر کیلے جیسے زیادہ فائبر والے پھل کھانے یا جلاب آور دوا کھانے سے اسے پاخانے کے راستے نکلنے میں مدد مل سکتی ہے۔اگر کوئی چیز سانس کی نالی میں اٹک گئی ہے تو بھی ایمرجنسی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر وہ شے تھوک کے ساتھ باہر نہ آئے تو برونکوسکوپی کی جاتی ہے۔ بہت کم کیسز میں سرجری کی جاتی ہے۔‘ ان واقعات سے پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کو روکنے کے لیے والدین کی آگاہی ضروری ہے۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 

پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔

متعلقہ مضامین

  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان