شام میں بشارالاسد کے بعد پہلا الیکشن، احمد الشرع نے خود 70 ارکان نامزد کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
دمشق: شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی عبوری پارلیمنٹ کے انتخابات کا عمل مکمل کرلیا گیا، تاہم اس عمل کو غیر جمہوری قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پارلیمنٹ کے ایک تہائی ارکان کو براہِ راست عبوری رہنما احمد الشرع کی جانب سے نامزد کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ انتخابات ایسے وقت میں منعقد ہوئے ہیں جب 13 سالہ خانہ جنگی کے بعد دسمبر میں بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ نئی اسمبلی کے قیام کو احمد الشرع کی طاقت کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
انتخابات میں 1500 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں، جن میں صرف 14 فیصد خواتین شامل ہیں۔ اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد 210 ہے، جن میں سے 70 ارکان الشرع خود نامزد کریں گے، جب کہ باقی ارکان کا انتخاب مقامی کمیٹیوں کے ذریعے ہوگا۔
تاہم دروز اکثریتی صوبہ السویدا اور کردوں کے زیرِ انتظام شمال مشرقی علاقہ انتخابی عمل سے باہر رہے، جس کے باعث 32 نشستیں خالی رہیں۔
الشرع کا کہنا ہے کہ فی الحال براہِ راست انتخابات ممکن نہیں کیونکہ لاکھوں شامی شہری بے گھر یا بیرون ملک پناہ گزین ہیں، جن کے پاس ضروری دستاویزات موجود نہیں۔
عبوری پارلیمنٹ 30 ماہ کے لیے قانون سازی کے اختیارات استعمال کرے گی اور مستقل آئین کی تیاری کے بعد نئے انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتخابی عمل الشرع کو مزید طاقتور بناتا ہے اور ملک کی نسلی و مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی سے محروم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام
یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔
ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ
ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان