گلوبل صمود فلوٹیلا کے مزید 29 ارکان اسرائیل سے ڈی پورٹ ہوکر اسپین پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
گلوبل صمود فلوٹیلا کے مزید 29 ارکان اسرائیل سے ڈی پورٹ ہوکر اسپین پہنچ گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 6 October, 2025 سب نیوز
گلوبل صمود فلوٹیلا کے مزید 29 ارکان اسرائیل سے ڈی پورٹ ہوکر اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ پہنچ گئے۔
ایئرپورٹ پر انسانی حقوق کی تنظیمیوں نے کارکنوں کا شاندار استقبال کیا گیا،رہا ہونے والوں میں 21 ارکان کا تعلق اسپین سے ہے،رہا ہونیوالے کارکن نے صیہونی فوج پر بدسلوکی کا الزام لگادیا۔ اب تک گلوبل فلوٹیلا کے ساڑھے چارسو ارکان میں سے 170 کو ڈی پورٹ کیا جاچکا۔
امریکی سینیٹر کراس وان نےدیگر رضاکاروں کی بھی جلدرہائی کامطالبہ کرتے ہوئےکہا اسرائیل میں امریکی سفیرامدادی کارکنوں کی رہائی کیلئےاقدامات کریں،امریکی حکومت کی سب سےپہلی ذمہ داری شہریوں کی بیرون ملک حفاظت ہے،ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل سے تمام گرفتار امریکی امدادی کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کے دیوالیہ ہونے کے خدشات میں کمی، مسلسل معاشی بہتری دکھانے والا واحد ملک بن گیا، بلومبرگ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے عالمی نگرانی میں ہتھیار ڈالنے پر اتفاق کرلیا اسرائیل نے انخلا کی ابتدائی لائن پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، صدر ٹرمپ حماس نے جنگ بندی نہ مانی تو غزہ پر حملے مزید بڑھیں گے، نیتن یاہو کی دھمکی گلگت: ممتاز عالم دین اور ہائیکورٹ کے جج کی گاڑیوں پر فائرنگ، 5 افراد زخمی دوحہ حملے پر دباؤ کے بعد نیتن یاہو نے غزہ امن منصوبے پر لچک دکھائی، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ اسرائیلی دعویٰ جھوٹا ثابت، حماس رہنما خلیل الحیہ منظر عام پر آگئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فلوٹیلا کے اسرائیل سے ڈی پورٹ
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔