تل ابیب: اسرائیل کے انتہا پسند دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی، اتمر بن گویر نے عالمی صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کے ساتھ جیل میں کیے گئے سخت سلوک پر فخر کا اظہار کیا ہے۔ یہ وہ کارکن ہیں جو غزہ کے محصور عوام تک امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، بن گویر نے کیتسعیوت جیل کا دورہ کیا جہاں فلسطینی قیدیوں کو بھی رکھا جاتا ہے۔ وزیر نے کہا کہ انہیں اس بات پر "فخر" ہے کہ فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو "دہشت گردوں کے حامیوں" کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ "جو کوئی دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے، وہ خود دہشت گرد ہے اور اسی طرح کے حالات کا مستحق ہے۔" بن گویر نے مزید کہا کہ "انہیں کیتسعیوت جیل کے حالات کا تجربہ ہونے دیں تاکہ وہ دوبارہ اسرائیل کے قریب آنے سے پہلے دو بار سوچیں۔"

واضح رہے کہ اس سے قبل بن گویر کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں وہ فلوٹیلا کارکنوں کا مذاق اڑاتے اور انہیں ’دہشت گرد‘ قرار دیتے نظر آئے۔


 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے ساتھ بن گویر

پڑھیں:

داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا

اوقاف بورڈ نے زائرین کے نذرانوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن کرنے کے الزام میں داتا دربار کے 5 سینئر افسران کو سزا سنادی۔

ملزمان میں سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد، سابق مینجر طاہر مقصود، سابق اسٹینو گرافر ثاقب نسیم سمیت دیگر ملازمین شامل ہیں۔

محکمہ اوقاف بورڈ کی ہدایات کی روشنی میں مجاز اتھارٹی نے انکوائری کے بعد سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کو انکے اصل مستقل عہدے سے 5 سال کی مدت کے لئے کم درجے کے عہدے (BS-15) اور پے اسکیل پر تنزلی کا حکم دیا ہے۔

شیخ جمیل احمد کی 5 سال کی پچھلی سروس بھی ضبط کر لی گئی ہے، انہیں 9,265,800 روپے ادا کرنے ہوں گے جبکہ انکے سروس ریکارڈ میں منفی اندراج بھی کیا جائے گا، مستقبل میں اُنہیں کسی بھی کیش ہینڈلنگ آفس یا فیلڈ ریونیو پوسٹ پر تعینات کرنے پر مستقل پابندی عائد کردی گئی ہے۔

اسی طرح سابق مینیجر داتا دربار طاہر مقصود کو سرکاری ملازمت سے برطرفی کی سزا دی گئی ہے، اسکے ساتھ 11,324,867 روپے (ان کا 55 فیصد واجب الادا حصہ) کی انفرادی مالیاتی ریکوری اور مستقبل میں فیلڈ پوسٹنگز پر مستقل پابندی عائد کی گئی ہے۔

سابق اسٹینو گرافر ایڈمنسٹریٹر آفس ثاقب نسیم کو 4 سال کی مدت کےلئے پچھلی سروس ضبط کرنے کی سزا دی گئی ہے اور ان پر انتظامی پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں کسی بھی خفیہ برانچ ایڈمنسٹریٹر دفاتر اور حساس دفاتر یا سی سی ٹی وی سیکیورٹی سے متعلقہ سائنمنٹس پر تعینات کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

سابق کیئر ٹیکر نور حسین کو تین سال کی مخصوص مدت کےلئے سالانہ ترقیاں روکنے کی سزا دی گئی ہے اور انہیں داتا دربار یا کسی بھی بڑے کیش جنریٹنگ مزار پر مستقبل میں تعینات کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

سابق کیئر ٹیکر محمد شریف اگرچہ اس مخصوص انکوائری رپورٹ کے الزامات سے بری ہو گئے ہیں لیکن مزار پر ایک زائر سے نقدی چوری کرنے کی وائرل ویڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد انکے خلاف فوری طور پر علیحدہ اور آزادانہ تادیبی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انہیں داتا دربار یا کسی بھی دوسرے بڑے مزار پر تعیناتی سے مستقل طور پر روک دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مقدس مذہبی اداروں کے اندرکرپشن عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے، کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
  • مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ،حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم
  • داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
  • میر واعظ عمر فاروق کا متعدد شخصیات کی رحلت پر اظہار تعزیت
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک