اسرائیلی وزیر کا فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ سخت غیر انسانی سلوک پر فخر کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
تل ابیب: اسرائیل کے انتہا پسند دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی، اتمر بن گویر نے عالمی صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کے ساتھ جیل میں کیے گئے سخت سلوک پر فخر کا اظہار کیا ہے۔ یہ وہ کارکن ہیں جو غزہ کے محصور عوام تک امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، بن گویر نے کیتسعیوت جیل کا دورہ کیا جہاں فلسطینی قیدیوں کو بھی رکھا جاتا ہے۔ وزیر نے کہا کہ انہیں اس بات پر "فخر" ہے کہ فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو "دہشت گردوں کے حامیوں" کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ "جو کوئی دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے، وہ خود دہشت گرد ہے اور اسی طرح کے حالات کا مستحق ہے۔" بن گویر نے مزید کہا کہ "انہیں کیتسعیوت جیل کے حالات کا تجربہ ہونے دیں تاکہ وہ دوبارہ اسرائیل کے قریب آنے سے پہلے دو بار سوچیں۔"
واضح رہے کہ اس سے قبل بن گویر کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں وہ فلوٹیلا کارکنوں کا مذاق اڑاتے اور انہیں ’دہشت گرد‘ قرار دیتے نظر آئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔