کوہاٹ اور کرک میں پولیس مقابلے، 4 خطرناک دہشتگرد مارے گئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: کوہاٹ اور کرک کے مختلف علاقوں میں پولیس نے منظم کارروائیوں کے ذریعے دہشتگردی کی نئی لہر کو ناکام بنا دیا۔
2 الگ واقعات میں مجموعی طور پر 4 دہشتگردوں کو مقابلے کے دوران ہلاک کردیا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں پولیس کی جانب سے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئیں۔
کوہاٹ میں کی جانے والی کارروائی کی قیادت تھانہ صدر کے ایس ایچ او ریاض نے کی، جو معمول کے گشت پر تھے کہ اچانک دہشتگردوں نے اندھادھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کی شدت کے باوجود پولیس نے انتہائی فوری ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے محاصرہ مضبوط کیا اور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 3 دہشتگرد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق مارے جانے والے دہشتگردوں کا تعلق ایسے گروہ سے تھا جو علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ابتدائی شواہد سے پتا چلا ہے کہ یہ عناصر حالیہ ہفتوں میں ہونے والی چند مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے، تاہم ان کے اصل نیٹ ورک، سہولت کاروں اور روابط کے بارے میں تفتیش جاری ہے۔
ہلاک دہشتگردوں کی لاشیں قانونی کارروائی کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردی گئی ہیں جبکہ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن بھی مزید تیز کر دیا ہے تاکہ فرار ہونے والے سہولت کاروں یا ممکنہ ساتھیوں تک بھی پہنچا جا سکے۔
اُدھر کرک کے علاقے میر کلام بانڈہ میں پولیس کو خفیہ اطلاع ملی جس کے بعد فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کارروائی شروع کی۔ جیسے ہی پولیس پہنچی تو دہشتگردوں نے فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن فورسز نے حکمت عملی کے ساتھ صورتحال کو سنبھالتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔
مقابلے میں ایک دہشتگرد ہلاک ہوگیا، جو مختلف سنگین مقدمات میں نامزد تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق اس دہشتگرد کا تعلق ایک ایسے گروہ سے تھا جو ضلع کے دور دراز علاقوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔