ریاض احمدچودھری
خالصتان کا پہلا باضابطہ مطالبہ 29 اپریل 1986 کو عسکریت پسند تنظیموں کی یونائیٹڈ فرنٹ پنتھک کمیٹی نے کیا تھا۔اس کا سیاسی مقصد یوں بیان کیا گیا: ‘اس خاص دن پرمقدس اکال تخت صاحب سے، ہم تمام ممالک اور حکومتوں کے سامنے اعلان کر رہے ہیں کہ آج سے ‘خالصتان’ خالصہ پنتھ کا الگ گھر ہو گا۔ خالصہ اصولوں کے مطابق تمام لوگ خوشی اور مسرت سے زندگی گزاریں گے۔”ایسے سکھوں کو حکومت چلانے کے لیے اعلیٰ عہدوں کی ذمہ داری دی جائے گی، جو سب کی بھلائی کے لیے کام کریں گے اور اپنی زندگی پاکیزگی کے ساتھ گزاریں گے۔’اب خالصتان کا مطالبہ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک میں رہنے والے بہت سے سکھوں کی طرف سے اٹھایا جا رہا ہے۔ اگرچہ ان ممالک میں رہنے والے سکھوں کی بہت سی تنظیمیں جو اس مسئلے کو مسلسل اٹھا رہی ہیں، لیکن پنجاب میں انھیں زیادہ حمایت حاصل نہیں ہے۔سکھس فار جسٹس امریکہ میں مقیم ایک گروپ ہے۔ بھارتی حکومت نے 10 جولائی 2019 کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت اس پر یہ کہتے ہوئے پابندی لگا دی تھی کہ اس تنظیم کا علیحدگی پسند ایجنڈا ہے۔اس کے ایک سال بعد 2020 میں بھارتی حکومت نے خالصتانی گروپوں سے وابستہ نو افراد کو دہشت گرد قرار دیا اور تقریباً 40 خالصتان نواز ویب سائٹس بند کر دیں۔سکھس فار جسٹس کے مطابق ان کا مقصد سکھوں کے لیے ایک خود مختار ملک بنانا ہے، جس کے لیے گروپ سکھ برادری کے لوگوں کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔سکھس فار جسٹس کا قیام سال 2007 میں امریکہ میں عمل میں آیا۔ اس گروپ کا مرکزی چہرہ گروپتونت سنگھ پنوں ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر اس وقت ہی کیوں خالصہ تحریک دوبارہ زور پکڑ رہی ہے۔ تو جواب بڑا سیدھا سا ہے کہ ہندوستان میں ایک بہت بڑی اور منظم تحریک ہے جو ہندوستان کی ریاست کو مذہبی انتہا پسندانہ پیرائے میں چلانا چاہتی ہے۔ یہی سوچ اور تحریک ہے جس کی وجہ سے پاکستان وجود میں آیا۔ یہی سوچ اور تحریک ہے جس نے کشمیر کو دھونس کے ذریعے ہندوستان میں شامل کر کے جنوبی ایشیاء کے امن کو تباہ کیا اور یہی سوچ اور تحریک ہے جس کے نتیجے میں سکھوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہندوستان میں رہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔حد تو یہ ہے کہ وہ شخص جو ہزاروں مسلمانوں کے قتل کا ذمہ دار گردانا گیا، اْسے انتخابات میں تاریخی فتح حاصل ہوئی۔
مودی حکومت کی فسطائیت اور ہندوتوا نظریات نے نہ صرف بھارت کے سیکولر تشخص کو داغدار کیا بلکہ اقلیتوں کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز کردیا ہے۔ فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے سکھ برادری کے خلاف جابرانہ ہتھکنڈوں کے استعمال اور دبا ئوکے باوجود خالصتان تحریک مزید زور پکڑ رہی ہے۔سکھز فار جسٹس کے کوآرڈینیٹر اندرجیت سنگھ گوسل نے اعلان کیا ہے کہ اگلا خالصتان ریفرنڈم کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں 23نومبر 2025کو ہوگا۔ وہ سکھز فار جسٹس کے جنرل کونسلر گرپتونت سنگھ پنوں کی مکمل حمایت کررہے ہیں اور بھارت کو کھلے عام للکار رہے ہیں۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے بھی مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت اندرجیت سنگھ کو ہتھیاروں کے جھوٹے کیس میں پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ 23نومبر کو اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم بھرپور طریقے سے منعقد ہوگا جہاں ووٹ ڈالے جائیں گے۔انہوں نے مودی حکومت کو للکارتے ہوئے کہا کہ اگر ہمت ہے تو کینیڈا، امریکہ یا یورپ میں آ کر گرفتاری کر کے دکھائے۔ اجیت ڈوول! تمہارا سمن تیار ہے اور میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔سکھ رہنمائوں نے کہا کہ مودی حکومت بیرون ملک سکھوں کو نشانہ بنانے کے لیے خفیہ ایجنسی” را ”کے نیٹ ورکس استعمال کر رہی ہے، لیکن اب بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے مقابلے میں خالصتان کا قیام ہر سکھ کی آواز بن چکا ہے۔سکھوں کی عالمی سطح پر ٹارگٹ کلنگ میں ملوث بھارت کی مودی سرکار کا بین الاقوامی دہشتگرد نیٹ ورک بے نقاب ہوگیاہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہندوتوا نظریے کے تحت سرحد پار دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔ انتہا پسند مودی حکومت کی سرپرستی میں بیرون ملک سکھوں کے قتل عام کی مذموم سازش ناکام اور بے نقاب ہوئی ہے۔
عالمی جریدے دی گارڈین کے مطابق کینیڈا نے ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگ میں ملوث بھارتی گروہ بشنوئی گینگ کو دہشت گرد قرار دیاہے۔ لارنس بشنوئی کا مجرمانہ نیٹ ورک بیرون ِملک ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے۔برطانوی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ کینیڈین حکومت کے مطابق بشنوئی گینگ معروف سکھ کارکن ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھی ملوث ہے۔ بشنوئی گینگ تارکین وطن سے بھتہ خوری ، انہیں ڈرانے دھمکانے اور قتل میں ملوث ہے اور اسکے بھارتی حکومت سے مبینہ روابط ہیں۔کینیڈین حکام کا کہناہے کہ بھارت نے بشنوئی گینگ کی مدد سے نجر کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔دی انڈین ایکسپریس کے مطابق پبلک سیفٹی کے وزیر گیری آنند سنگھری نے کہاہے کہ دہشت گرد تنظیم کی نامزدگی سے اثاثے ضبط کرنے اور جرائم کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے اور بھتہ خوری پر بات کرنے پرایک ریڈیو اسٹیشن پر بھی حملہ کیاگیاہے۔ پنجابی، ہندی ریڈیو اسٹیشن پر 29ستمبر کی درمیانی شب مسلح افراد نے فائرنگ کی ہے۔کینیڈین پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ سمیت دیگر وارداتوں کے کیسز مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ سے جڑے ہیں۔مودی حکومت اپنی آمرانہ طرز حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے بیرون ملک بھی سکھوں سمیت اقلیتوں کی آواز خاموش کرنے میں مصروف ہے۔ مودی حکومت امن کے بجائے عالمی سطح پر ریاستی دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے۔
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ٹارگٹ کلنگ میں ملوث بھارتی حکومت بشنوئی گینگ مودی حکومت کے مطابق سکھوں کی فار جسٹس تحریک ہے کے لیے رہی ہے کے قتل
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔