Jang News:
2026-06-03@05:00:01 GMT

پنجاب حکومت سے مناظرے کیلئے تیار ہوں: میئر کراچی

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

پنجاب حکومت سے مناظرے کیلئے تیار ہوں: میئر کراچی

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب—فائل فوٹو

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت سے مناظرے کے لیے تیار ہوں۔

سفاری پارک میں میڈیا سے گفتگو میں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ لگتا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے پنجاب حکومت دباؤ میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو گُل دستہ بھجوانا چاہتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ اطمینان رکھیں مشکلات آتی رہتی ہیں۔

میئر کراچی نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ سیاسی ٹمپریچر کم رہے، پنجاب حکومت بیان بازی کے بجائے سیلاب متاثرین کی مدد کرے۔

مئیر کراچی نے وفاق سے 200 ارب روپے مانگ لیے

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاق سے 200 ارب روپے مانگ لیے۔

اُن کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کے مزے ہیں، ان کو مشکل وقت بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے، اب جب مشکل وقت آیا ہے تو اطمینان کریں اور ہمت سے کام لیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بعد معاشی استحکام آ رہا ہے، ہم اسے خراب کرنا نہیں چاہتے، بیان بازی غیر مناسب ہے، پیپلز پارٹی نے کوئی بیان بازی نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی اور ایس یو ٹی میں بڑی تعداد میں پنجاب سے لوگ علاج کے لیے آ رہے ہیں، اس وقت پنجاب کے کسانوں کو پریشانی لاحق ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ آج سفاری پاک میں پاکستان کے سب سے بڑے ٹرمپولین پارک کا افتتاح کیا ہے، جس کی فیس عوام کی پہنچ میں ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ہم نیک نیتی کے ساتھ شہر کے تفریحی مقامات پر توجہ دے رہے ہیں، بہترین سہولتیں مستقبل کے معماروں کو سفاری پارک میں دے رہے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پچھلے 2 سال میں جو کام کیے ان کے نتائج سامنے ہیں، کراچی کے 2 مقامات پر مزید ٹریمپولین پارکس ہیں، جن کے ریٹ میں اور یہاں کے ریٹ میں فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں سفاری پارک ویران ہو چکا تھا یہاں کوئی سہولت نہیں تھی، سینکڑوں فیملیز اب چھٹی کے دن یہاں نظر آتی ہیں، ہماری نیت تھی جب ہمیں موقع ملے گا تو ہم شہر کے پارک اپ گریڈ کریں گے۔

میئر کراچی نے کہا کہ ہم سیاست سیاست روز کھیلتے ہیں، ہمارے شہر میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں، پیپلز پارٹی کی قیادت کام پر یقین رکھتی ہے، شہر میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے سے متعلق اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ آج شہر کی رونقیں بحال ہو رہی ہیں، ہمارے کاموں پر مخالفین عدالت بھی چلے جاتے ہیں، کراچی کے بچوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ یہ سہولتیں ہمارے پارٹی کے منشور کا حصہ ہیں، کچھ کام سست روی کا شکار ہیں ہم جانتے ہیں، چاہتے ہیں پارکوں میں نشہ آور افراد نہ بیٹھیں، نہ شادی بیاہ کی تقریب ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: وہاب نے کہا کہ پنجاب حکومت میئر کراچی کراچی نے رہے ہیں

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار