ہنگورجہ: مختلف گائوں کے رہائشی نوجوان پیدائشی طورپر معذور
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہنگورجہ (نمائندہ جسارت) ہنگورجہ کے مختلف گائوں کے رہائشی نوجوان پئدائشی طور پر معذور۔حکومت اور نہ کسی غیر سرکاری آرگنائزیشن نے معذوروں کی مالی معاونت فراہم نہ کی۔اور علاج بھی نہیں کروایا۔معذور گھروں تک محدود زندگی مشکلات میں بسر کرنے لگے تفصیلات کے مطابق ہنگوث کے مختلف گائوں نھال خان سولنگی، گڈیجی ، ملہیرانی سولنگی،رانوخان،ہنگورجہ،رسول آباد کے کئی رہائشی پیدائشی طور پر معذور ہیں معذور افرادوں کی کسی بھی حکومت اور غیر سرکاری آرگنائزیشن نے بھی معذوروں کی مالی معاونت فراہم نہیں کی جس کے وجہ سے غریب معذور اپنے گھروں میں مشکلات کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں معذور الفت سولنگی،،زنوار حسین ،ہاسرعباس،الفت علی اوردیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم انتہائی غریب کسانوں کے اولاد ہوں اور پیدائشی طور پر معذور ہوں علاج کرانے کے باوجود بھی کوئی فائدا نہیں ہوسکا تھا غربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں حکومت اور غیر سرکاری آرگنائزیشن مدد نہیں کی ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز