ستائیسویں ترمیم کا مقصد ذاتی مفاد ہے تو پھر یہ آئینی خیانت ہوگی، علامہ جواد نقوی
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چھبیسویں ترمیم کے بعد جو ایجنڈا ادھورا رہ گیا تھا، حکومت اب ستائیسویں ترمیم کے ذریعے اُسے مکمل کرنا چاہتی ہے، آئین حکومتوں کو پابند کرنے کیلئے ہوتا ہے، حکومتوں کو یہ حق نہیں کہ وہ آئین کو اپنے سیاسی فائدے کیلئے بگاڑیں۔ اسلام ٹائمز۔ جامعہ عروۃالوثقیٰ لاہور میں خطاب کرتے ہوئے سربراہ تحریک بیداری امت مصطفی علامہ سید جواد نقوی نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے مجوزہ ڈھانچے پر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چھبیسویں ترمیم کے بعد جو ایجنڈا ادھورا رہ گیا تھا، اب ستائیسویں ترمیم کے ذریعے مکمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترمیم کے دو بنیادی نکات سامنے لائے جا رہے ہیں، اول آئینی کورٹ/آئینی بینچ کا قیام تاکہ سپریم کورٹ کا وقت آئینی درخواستوں پر صرف نہ ہو اور اس کی ترکیب بھی مکمل طور پر حکومت طے کرے۔ دوسرا، دفاعی سیٹ اپ میں نیا عہدہ “ڈیفنس کمانڈر” جس کے اختیارات اور مدتِ ملازمت کو آئینی حیثیت دیدی جائے۔
علامہ جواد نقوی نے نشاندہی کی کہ چونکہ ایسی ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، اس لیے چھوٹی جماعتیں اچانک فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ “پانچ پیسے والی جماعت” کا کردار یوں کھل کر سامنے آتا ہے کہ جب سب کے پاس رقم موجود ہو لیکن آخری پانچ پیسہ جس جیب میں ہو، وہی اپنی شرطیں منواتا ہے، اسی دن ان کی "لاٹری" کھلتی ہے۔ علامہ نقوی نے خبردار کیا کہ اسی مقام سے خطرہ جنم لیتا ہے، سیاسی سودے بازی، مسلکی و ذاتی نوعیت کے بلوں کی منظوری، کیسوں میں رعایتیں، تقرریوں میں مداخلت اور حکومتوں کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی روش پروان چڑھتی ہے۔ انہوں نے مدارس رجسٹریشن کے حالیہ تنازعے کو اس کی تازہ مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت رجسٹریشن کی پالیسی بنی، پھر سودے بازی کے نتیجے میں سوسائٹیز ایکٹ کا بل بھی نکال لیا گیا اور آخرکار صدرِ مملکت نے آرڈیننس کے ذریعے دوہرا راستہ دے کر مزید ابہام پیدا کر دیا۔
علامہ نقوی نے مزید کہا کہ پس منظر وہی "ہائبرڈ نظام" یا "فوجی جمہوریت" کا ماحول ہے، جہاں بڑی جماعتیں اقتدار بانٹ کر بیٹھتی ہیں، نمبر گنے جاتے ہیں اور جہاں پانچ پیسے کم پڑتے ہیں وہاں سودے بازی کے دروازے کھل جاتے ہیں، یوں پورا موسم ہی بلیک میلنگ کا بن جاتا ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہ ترمیم واقعی قومی اور دفاعی مفاد کی مستقل ضرورت ہے تو ٹھیک ہے، آئین حکومتوں کو پابند کرنے کیلئے ہوتا ہے، حکومتوں کو یہ حق نہیں کہ وہ آئین کو اپنے سیاسی فائدے کیلئے بگاڑیں، لیکن اگر اس ترمیم کا مقصد ذاتی یا جماعتی مفاد، وقتی مجبوری یا سیاسی لین دین ہے تو پھر یہ ترمیم آئینی خیانت کے مترادف ہوگی۔ آج کی یہ آسانی کل کی قومی مشکل بن سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حکومتوں کو ترمیم کے انہوں نے نقوی نے کہا کہ
پڑھیں:
محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
(اویس کیانی)نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد، جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ کیا۔
اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اپ گریڈیشن پراجیکٹ سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں نیشنل پولیس اکیڈمی کی اپ گریڈیشن کے سلسلے میں جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیز
ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد،جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیا pic.twitter.com/PSzCboerya
اجلاس میں ایلیٹ سکول کی فائرنگ رینج اور باونڈری وال کو 2 ماہ میں مکمل کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔
دوران اجلاس نیشنل پولیس اکیڈمی کو مرحلہ وار سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری دی گئی، تمام کلاس رومز کو جدید آئی ٹی سہولیات سے لیس کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈپٹی کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔