مشتاق احمد کا استقبال؛ سیکڑوں شہری اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہنچ گئے، فلسطین کے حق میں نعرے
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
مشتاق احمد کا استقبال؛ سیکڑوں شہری اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہنچ گئے، فلسطین کے حق میں نعرے WhatsAppFacebookTwitter 0 9 October, 2025 سب نیوز
اہل غزہ کی امداد لے جانے اور اسرائیلی محاصرہ توڑنے کے لیے جانے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد کا استقبال کرنے کے لیے سیکڑوں شہری اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچ گئے۔
شہریوں کی بڑی تعداد اسلام آباد ایئرپورٹ پر سابق سینیٹر مشتاق احمد کے استقبال کے لیے موجود ہے، جہاں لوگ فلسطین کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے ہیں۔ شہری پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے اور فلسطینی جھنڈے لہراتے ہوئے سابق سینیٹر مشتاق احمد کے استقبال کے لیے موجود ہیں۔
ائیرپورٹ پر موجود افراد میں خواتین، بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد نے عالمی سطح پر امت مسلمہ اور فلسطین کے مؤقف کو اجاگر کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کی حمایت میں بڑی تعداد میں ائیرپورٹ پر پہنچے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعادل راجا لندن ہائیکورٹ میں ہتک عزت کا کیس ہار گئے، بطور ہرجانہ 13 کروڑ روپے ادا کرنا ہوں گے عادل راجا لندن ہائیکورٹ میں ہتک عزت کا کیس ہار گئے، بطور ہرجانہ 13 کروڑ روپے ادا کرنا ہوں گے سپر ٹیکس: قانون کی افادیت یا ناکافی ہونے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے، جسٹس مندوخیل وزیراعظم پاکستان نے ہمارے دل جیت لیے، بھرپور حمایت پر شکرگزار ہیں، فلسطینی سفیر اسرائیل کی دو سالہ بربریت کا خاتمہ، غزہ میں جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق: حماس اور اسرائیل اب کیا کریں گے؟ حماس اور اسرائیل کے درمیان آج تاریخی غزہ امن معاہدے پر باقاعدہ دستخط ہونے کا امکانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ایئرپورٹ مشتاق احمد فلسطین کے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔