بی جے پی کیساتھ اتحاد کا سوال ہی نہیں ہے، سریندر چودھری
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
نامہ نگاروں کیساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے ووٹوں کی خرید و فروخت سے گریز کیا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے نائب وزیراعلٰی سریندر چودھری نے بی جے پی کے ساتھ کسی بھی مفاہمت یا سمجھوتے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت سے علیحدہ ہونا پسند کرتے گی، مگر کبھی بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی۔ میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی کی طرف سے نگروٹہ اسمبلی حلقے سے شمیم بیگم کو امیدوار بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نیشنل کانفرنس بی جے پی سے کسی قسم کے سیاسی اتحاد کے موڑ میں نہیں ہے۔
سریندر چودھری نے ان باتوں کا اظہار جموں کے نگروٹہ حلقے کے انتخابی مہم کے آغاز کے دوران کیا۔ نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے ووٹوں کی خرید و فروخت سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے راجیہ سبھا انتخابات میں تین نشستیں جیتیں، چوتھی پر بھی مضبوط پوزیشن میں تھے، مگر چند ارکان نے دھوکہ دیا اور بی جے پی کے حق میں ووٹ دیا۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ہمیشہ "ووٹ چوری" کی سیاست کرتی ہے اور اس بار یہ بات واضح ہوگئی۔
سریندر چودھری نے بھی تسلیم کیا کہ بی جے پی کے پاس صرف 28 ووٹ تھے، مگر اضافی ووٹ کہاں سے آئے، اس کا جواب ابھی تک نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے تمام دباؤ کے باوجود اپنی اخلاقی برتری قائم رکھی۔ سریندر چودھری کے مطابق ہم نے نہ پیسے دیے، نہ لالچ دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جموں و کشمیر کے عوام کی آواز کے لئے لڑائی لڑی، تین نشستیں جو ہم نے جیتی ہیں وہ عوام کی ہیں اور ہمارے نمائندے ان کی آواز دہلی تک پہنچائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ نیشنل کانفرنس انہوں نے کہا کہ سریندر چودھری کرتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔