اسلام آباد: وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی سے بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ انیس الزماں چوہدری نے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ اقتصادی و سفارتی تعلقات کے فروغ پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

اہم ملاقات کے دوران فریقین نے مشترکہ ترقی کے اہداف کے لیے تعاون بڑھانے اور اقتصادی شراکت داری کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر توانائی، ٹرانسپورٹ، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں وسیع تر تعاون پر گفتگو ہوئی، جب کہ عوامی رابطوں کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی کو اہم قدم قرار دیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ برادرانہ تعلقات کو اقتصادی تعاون، ثقافتی تبادلوں اور سفارتی اشتراک کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو عملی سطح پر اس کے فوائد حاصل ہوں۔

انیس الزماں چوہدری نے کہا کہ بنگلا دیش پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم بڑھانے اور علاقائی رابطوں کو وسعت دینے کا خواہاں ہے، جبکہ بلال اظہر کیانی نے یقین دلایا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔

ملاقات میں پاکستان میں بنگلا دیش کے سفیر محمد اقبال حسین خان، قونصلر (پریس) محمد طیب علی، ہیڈ آف چانسری عصرت جہاں اور وزارت خزانہ کے اکنامک ایڈوائزر ڈاکٹر حسن محمد محسن بھی شریک تھے۔

شرکا نے اتفاق کیا کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی وفود کے تبادلے، کاروباری فورمز کے قیام اور سرمایہ کاری کے نئے منصوبوں پر کام تیز کیا جائے گا تاکہ جنوبی ایشیا میں خطے کی معاشی استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کی جا سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل دونوں ممالک کے بنگلا دیش کے درمیان کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی