اسلام آباد میں نیوٹک اور نیٹسول کے مابین آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ایڈوانس اسکلز ڈویلپمنٹ کے حوالے سے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنکل ٹریننگ کمیشن اور نیٹسول انسٹیوٹ آف آرٹیفشل انٹیلیجنس کے مابین مفاہمتی یاداشت پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی جس میں دونوں اداروں کی جانب سے نمائندگان شریک ہوئے۔ 

دونوں اداروں کے مابین معاہدہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ایڈوانس سکلز ڈویلپمنٹ کے شعبہ جات میں کیا گیا۔ مفاہمت کا مقصد اے آئی پر خصوصی توجہ کے ساتھ جدید ٹیکنالوجیز میں تربیت فراہم کرکے اکیڈمی اور صنعت کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔

اس اقدام میں نیوٹک کے سمر آف کوڈ پروگرام جیسے پروگرامز شامل ہیں جو مختلف آئی ٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز بشمول اے آئی، ویب ڈویلپمنٹ، اور گرافک ڈیزائننگ کے کورسز پیش کرتے ہیں۔

یہ بے روزگار نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کے لیے بنائے گئے ہیں جو اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ اس پروگرام کیلئے اہلیت عام طور پر میٹرک کی تعلیم سے شروع ہے اور عمر کی حد 18-40 سال ہے۔

یہ تعاون اعلیٰ سطحی AI ٹیلنٹ کو فروغ دینے اور پاکستان میں تکنیکی خود انحصاری کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • سونا مزید سستا، فی تولہ قیمت میں کتنی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی؟
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن