لاہور میں مارکیٹیں رات 10 اور ریسٹورنٹ 11 بجے بند کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) ضلعی انتظامیہ نے ہائی کورٹ کے حکم پر تمام مارکیٹوں کے اوقات کار تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو 2023 کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کی ہدایات جاری کردی۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق انسداد اسموگ اقدامات کے تحت پیر سے ہفتہ مارکیٹیں رات 10 بجے جبکہ ریسٹورنٹ اور کیفے رات 11بجے بند ہوں گے۔اتوارکو مارکیٹیں دوپہر 2 بجے سے رات 10 بجے تک کھل سکیں گی، ہوم ڈیلیوری کی رات 2 بجے تک اجازت ہوگی۔ میڈیکل اسٹورز، بیکریز، تنور، دودھ کی دکانیں، اسپتال، لیبارٹریز، پیٹرول پمپ اور پنکچر شاپس کو استثنیٰ ہوگا۔ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا کا کہنا ہے کہ نئے اوقات کار پر پابندی لازمی ہوگی، خلاف ورزی پردکاندار ہوٹلز ریسٹورنٹس کو سیل کیا جائے اور بھاری جرمانے ہوںگے۔ لاہور ہائیکورٹ نے اتوار کے روز لاہور شہر میں کمرشل سرگرمیوں پر مکمل پابندی عاید کرنے کا حکم جاری کردیا۔ اسموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیخلاف درخواستوں پر سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کی۔عدالتی حکم پر ڈپٹی کمشنر لاہور موسیٰ رضا نے مارکیٹوں کی 10 بجے بندش کا نوٹیفکیشن پیش کیا اور بتایا کہ ریسٹورنٹس کو بھی رات 10 بجے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ مقصد نوٹیفکیشن نکالنا نہیں بلکہ اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے، پابندی لگانے کا مقصد اسموگ کا تدارک کرنا ہے، ماحول میں آلودگی بڑھنے سے اسموگ بڑھ رہی ہے۔رکن ماحولیاتی کمیشن نے بتایا کہ خیابان فردوسی کے قریب واسا نے کھدائی کر رکھی ہے، کھدائی کی وجہ سے ٹریفک جام رہتی ہے جبکہ لیگل ایڈوائزر واسا عرفان اکرم نے عدالت کو بتایا کہ لاہور میں سیوریج سسٹم کو تبدیل کیا جا رہا ہے، جس پر عدالت نے کہا آپ آئندہ سماعت پر جاری پروجیکٹس کی ٹائم لائن پیش کریں۔لاہور ہائیکورٹ نے اتوار کے روز لاہور میں کمرشل سرگرمیوں پر مکمل پابندی عاید کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ شادی ہالوں کی رات 10 بجے پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔عدالت نے ہر سماعت پر محکمہ ماحولیات کے ڈائریکٹر سطح کے افسر کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے عملدرآمد رپورٹس طلب کر لی اور سماعت 7 نومبر تک ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رات 10 بجے کرنے کا
پڑھیں:
حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی طلب اور دستیاب ذخائر کے درمیان فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صوبوں کی ضروریات پوری کرنا، گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے موجودہ گندم ذخائر ملک بھر کے صوبوں کی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاسکو کے پاس موجود گندم کے ذخائر کو صوبوں کی ضرورت اور دستیابی کے مطابق تقسیم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی علاقے میں قلت پیدا نہ ہو اور مارکیٹ میں سپلائی کا نظام متاثر نہ ہو۔
وزارت کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ گندم کی دستیابی، قیمتوں اور سپلائی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ فوری درآمد کے ذریعے ملکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ حکومت عوام کو سستی، معیاری اور وافر مقدار میں گندم کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری انتظامی اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت گندم درآمد کرنے سے نہ صرف آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ ممکنہ قلت اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاونت حاصل ہوگی۔
حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، سپلائی چین کو مستحکم رکھنے اور عوام کو مناسب قیمت پر بنیادی غذائی اجناس کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔