data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن (مانیٹر نگ ڈ یسک)امریکا نے ہنگری کو روسی تیل و گیس کی خریداری پر امریکی پابندیوں کے تناظر میں استثنیٰ دے دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ ہنگری کو روسی تیل اور گیس خریدنے کی پابندیوں سے ایک سالہ استثنیٰ دینے کا اعلان کیا۔ ہنگری نے بھی بیان دیا ہے کہ اس استثنیٰ میں شامل ہے کہ روسی تیل اور گیس جو ‘‘تور کسٹریم’’ اور ‘‘دروڑبہ’’ پائپ لائنز کے ذریعہ پہنچتی ہے، ان پر پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی۔ امریکی اعلامیے کے مطابق اس استثنیٰ کے بدلے ہنگری نے امریکی ایل این جی خریدنے اور امریکی نیوکلیئر فیول کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ اقدام یورپی یونین کی جانب سے روسی تیل و گیس پر پابندیاں سخت کرنے کے تناظر میں آیا ہے کیونکہ ہنگری کے لیے روسی توانائی کا متبادل تلاش کرنا مشکل ہے۔واضح رہے کہ ہنگری کے پاس سمندر تک رسائی نہیں ہے اور وہ زیادہ تر روسی توانائی کی فراہمی پر منحصر ہے۔ ہنگری حکومت نے بھی یہی بات امریکی صدر کے سامنے بیان کی تھی تاکہ استثنیٰ حاصل کیا جائے۔ اس استثنیٰ کا اطلاق ایک مخصوص مدت کے لیے ہے جو کہ ایک سال بتایا جارہا ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: روسی تیل

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی