2014 کی غزہ جنگ میں ہلاک افسر کی باقیات واپس لائیں گے، اسرائیلی فوج
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
تل ابیب: اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2014 کی غزہ جنگ میں ہلاک ہونے والے افسر ہدار گولڈن کی باقیات ہر صورت واپس لائیں گے، یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب میڈیا نے اطلاع دی کہ حماس نے مبینہ طور پر گولڈن کی لاش کا مقام معلوم کر لیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نے شام گولڈن کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور انہیں تفتیش کے تازہ ترین نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ چیف آف اسٹاف نے ہدار اور دیگرہلاک قیدیوں کی واپسی کے عزم کو دہرایا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے حماس اور ریڈ کراس کو اسرائیلی کنٹرول والے علاقے میں تلاش مکمل کرنے کی اجازت دی تھی، گولڈن کی باقیات رفح کے ایک سرنگ میں ملی ہیں، ابھی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔
خیال رہےکہ ہدار گولڈن 1 اگست 2014 کو ہلاک ہوئے تھے جب 72 گھنٹے کی جنگ بندی نافذ تھی، وہ حماس کی سرنگیں تباہ کرنے کے مشن پر تھے کہ اچانک حملے میں مارے گئے اور ان کی لاش حماس کے قبضے میں چلی گئی۔
اسرائیل اب امریکی ثالثی کے تحت جاری جنگ بندی معاہدے کے ذریعے گولڈن کی باقیات واپس لانے کی کوشش کر رہا ہےجبکہ ماضی میں دونوں فوجیوں کی باقیات کے تبادلے کے لیے متعدد قیدیوں کی ڈیلز ناکام ہو چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کی باقیات گولڈن کی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔