راولپنڈی میں دفعہ 144 میں توسیع کر دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-01-11
راولپنڈی(صباح نیوز)راولپنڈی میں عوامی اجتماعات اور ریلیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے دفعہ 144 میں توسیع کر دی گئی ہے، پابندی 17 دسمبر تک برقرار رہے گی۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ڈاکٹر حسن وقار چیمہ نے ضلع راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 144 کے تحت ضلع میں 4 یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلسے، جلوس، ریلیاں، مظاہرے، دھرنے اور دیگر جمع ہونے کی سرگرمیوں پر پابندی ہوگی۔ علاوہ ازیں ہتھیار، سپائکس، پتھر، گولی دار ہتھیار، پٹرول بم اور دیگر ایسے آلات جو تشدد کیلئے استعمال ہو سکتے ہیں، رکھنے پر بھی پابندی ہوگی۔ اس پابندی کے دوران پِلیئن رائیڈنگ، لاؤڈ سپیکر کے استعمال، نفرت انگیز تقریر اور پولیس کی ہدایات کی خلاف ورزی بھی ممنوع ہوگی، یہ حکم 11 دسمبر سے مؤثر ہے اور 17 دسمبر تک برقرار رہے گا۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق پابندی کے خاتمے کے بعد بھی اس دوران کیے گئے تمام اقدامات، تحقیقات اور عدالتی کارروائی جاری رکھی جائے گی، اس حکم کو عوام میں آگاہی کیلئے سرکاری گزٹ، مقامی اخبارات، تھانوں، عدالتوں اور دیگر عوامی مقامات پر جاری کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ضلع انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق حساس تنصیبات، اہم سڑکیں اور دیگر اہم جگہوں پر ممکنہ خطرات لاحق ہیں اور بعض عناصر قانون و انتظامیہ کے خلاف کارروائیاں کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور دیگر
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :