سکھر،میاں آدم محمد شاہ کلہوڑو کے عرس کی تیاریاں عروج پر
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
سکھر (نمائندہ جسارت) میاں آدم محمد شاہ کَلہوڑو کا 426 واں سالانہ عرس 23 تا 25 فروری 2025ء بمطابق شعبان المعظم 1446ھ کو آدم شاہ کی ٹکری سکھر میں منایا جائے گا۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر سکھر ڈاکٹر ایم بی راجا دھاریجو کی زیر صدارت ان کے آفس میں میاں آدم محمد شاہ کَلہوڑو کے سالانہ عرس کے انتظامات کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ درگاہ کے سجادہ نشین اور عرس کمیٹی کے چیئرمین میاں جہانگیر عباسی نے اجلاس کو آگاہی دیتے ہوئے بتایا کہ میاں آدم محمد شاہ کَلہوڑو بحیثیت ایک مذہبی شخصیت اور میاں وال تحریک میں ان کے سیاسی کردار پر روشنی ڈالنے کے لیے عرس کے موقع پر سیمینار کا انعقاد بھی کیا جائے گا، جس میں نامور ادیب اور محقق اپنے مقالے پیش کریں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میاں وال تحریک کے بانی حضرت شہید میاں آدم شاہ کَلہوڑو سندھ کی تاریخ میں ایک عظیم محب وطن اور انقلابی شخصیت تھے۔ سجادہ نشین درگاہ حضرت آدم شاہ کَلہوڑو میاں جہانگیر عباسی نے مزید بتایا کہ آدم شاہ کَلہوڑو نے سندھ کے اتحاد، خوشحالی، اور سیاسی حالات کی بہتری کے لیے شاندار کردار ادا کیا۔ ڈپٹی کمشنر سکھر ڈاکٹر ایم بی راجا دھاریجو نے ہدایت کی کہ پیشگی سیکورٹی اور ٹریفک کے حوالے سے ایک کانٹیجنسی پلان تیار کیا جائے تا کہ میاں آدم شاہ کلہوڑو کے عرس کے موقع پر کوئی ناگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ ڈپٹی کمشنر سکھر نے سیپکو انتظامیہ کو ہدایت کی کہ عرس کے دنوں میں شام 6 بجے سے رات 12 بجے تک بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ڈی ایچ او سکھر کو ہدایت کی کہ عرس کے موقع پر ایمبولینس کی موجودگی اور میڈیکل کیمپ کے قیام کو بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے میونسپل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ عرس کے دوران آدم شاہ کی ٹکری پر صفائی ستھرائی، پانی، سڑکوں اور روشنی کے انتظامات مکمل کیے جائیں، ڈپٹی کمشنر نے اسپیشل برانچ کے اعلیٰ افسران کو ہدایت کی کہ سیکورٹی کو مزید بہتر بنانے کیلیے وہاں واک تھرو گیٹس بھی نصب کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میاں ا دم محمد شاہ ک ا دم شاہ ک عرس کے
پڑھیں:
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے خراب صحت کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کی عمر 76 برس ہے اور وہ اپریل 2023 سے ملک کے صدر کے عہدے پر فائز تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ اور خاندان سے منسلک 6.2 ارب ڈالر کے اثاثے ضبط کر لیے
صدر کے پریس سیکریٹری کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محمد شہاب الدین نے حالیہ طبی معائنے کے بعد بتایا کہ انہیں آٹونومک نیوروپیتھی نامی بیماری لاحق ہے جس کے باعث انہیں بعض اوقات اچانک مختصر وقت کے لیے بے ہوشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس بیماری کے باعث وہ آئینی منصب کی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے قابل نہیں رہے اسی لیے انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔
پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر ہوں گےبیان کے مطابق نئے صدر کے انتخاب تک جاتیا سنگسد (قومی پارلیمنٹ) کے اسپیکر صدر کی آئینی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں لکھا کہ جسمانی اور ذہنی صحت مسلسل متاثر ہونے کے باعث وہ صدر جیسے اہم آئینی عہدے کی ذمہ داریاں مزید نبھانے کے قابل نہیں رہے۔
شیخ حسینہ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے تھےمحمد شہاب الدین جنہیں عام طور پر ’چپو‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے سنہ 2023 میں پارلیمنٹ کے ذریعے اس وقت صدر منتخب ہوئے تھے جب سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ اقتدار میں تھی۔
مزید پڑھیے: پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق
تاہم سنہ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ حکومت کا خاتمہ ہوا اور وہ بھارت منتقل ہو گئیں، جس کے بعد صدر شہاب الدین پر بھی مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا تھا۔
فون پر رابطے کے الزامات
رواں سال مئی میں لندن میں زیر علاج ہونے کے دوران ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے شیخ حسینہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، تاہم صدر نے اس الزام کی تردید کی تھی۔
عوامی لیگ پر پابندی برقرارمحمد شہاب الدین کے استعفے کے بعد شیخ حسینہ کا اعلیٰ ریاستی عہدوں پر موجود ایک اور اہم اتحادی بھی منظر سے ہٹ گیا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی، امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے جبکہ سال 2024 کی طلبہ تحریک کے بعد پارٹی کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں