Jasarat News:
2026-06-02@23:19:11 GMT

میرا برانڈ پاکستان کا مقصد؟؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT

میرا برانڈ پاکستان کا مقصد؟؟

میرا برانڈ پاکستان کا مقصد کیا ہے؟ یہ سوال لوگوں کے ذہن میں اُٹھتا ہے۔ اس کا جواب ہر ایک کے پاس کافی اور شافی ہونا چاہیے تاکہ سوال کرنے والوں کو جواب دیا جاسکے۔ بلکہ صرف سوال کرنے والوں کے جواب کے لیے نہیں بات کی جانی چاہیے بلکہ اس موضوع کو عام بات چیت کا محور بھی بنانا چاہیے۔ کیونکہ اس میں ہماری ترقی اور غلامی سے نجات کا راز چھپا ہے۔

میرا برانڈ پاکستان کا مقصد پاکستانی صنعتوں کی مہارت کو اجاگر کرنا مقامی طور پر تیار کی گئی، اشیا کو عالمی سطح پر فروغ دینا ملک کی اقتصادی ترقی کو نئی جہت نیا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے تا کہ پاکستانی کاروباری، سرمایہ کار اور جدت پسندوں کو اپنی مصنوعات اور خدمات کو فروغ دینے کے لیے ایک موقع ملے وہ اپنے آپس کے تعاون کو فروغ دیں، نئے نئے کاروباری خیالات (آئیڈیاز) لے کر اس میں شریک ہوں اور اپنے اپنے میدان میں آگے بڑھیں۔ عالمی منڈی میں اپنی قابلیت کو پیش کریں، میڈ اِن پاکستان کی مصنوعات کی برانڈنگ کریں، اس کو قابل فخر بنائیں، اپنی مہارت، محنت اور قابلیت کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کو ملکی سطح پر ہی نہیں عالمی سطح پر بھی فروغ دیں۔ پاکستانی برانڈ کی مصنوعات کو فروغ دینے میں ہماری معیشت کی بقا ہے۔ ملک کو مضبوط و محفوظ بنانے اور گداگری کا کاسہ پھینکے۔ آئی ایم ایف کے در کی غلامی سے نجات کے لیے پاکستانی مصنوعات کا استعمال اور فروغ ضروری ہے۔ آسان الفاظ میں کہیں تو کسی بھی ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کی ایکسپورٹ یعنی برآمدات درآمدات سے زیادہ ہونی چاہیے یعنی اپنے ملک کی مصنوعات زیادہ فروخت ہونی چاہئیں اور دوسرے ملک سے خریداری کم ہونی چاہیے۔ کیونکہ اس کے لیے زرمبادلہ چاہیے ہوتا ہے جس کی ملک میں پہلے ہی کمی ہے اگر ہم اپنے ملک کی مصنوعات چھوڑ کر باہر کی مصنوعات خریدیں گے تو مزید قرضوں میں جکڑتے چلے جائیں گے۔ اس وقت تو ویسے بھی غزہ کے باعث یہودی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا لازم ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ ملک کی بنی اشیا کا خریدنا بھی لازم ہے۔ تا کہ ملک کی معیشت بہتر ہو، ڈالر کی قدر میں کمی آئے، روپے کی قدر میں اضافہ ہو، زرمبادلہ کے ذخائر جتنے زیادہ ہوں گے ملک کی حالت اتنی ہی بہتر ہوگی۔

کچھ لوگ بائیکاٹ مہم کو صحیح اور اہم سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ بائیکاٹ تو ممکن ہی نہیں ہے، کیوں کہ ہم ہر شے غیر ملکی استعمال کررہے ہیں اور ہمارے ملک میں بنتا ہی کیا ہے؟ اور جو بنتا بھی ہے تو اس کا معیار ٹھیک نہیں۔ یہ بات درست نہیں ماضی میں بھی استعمال کی بیش تر اشیا مثلاً صابن، سرف، شیمپو، مشروبات، دودھ، ٹوتھ پیسٹ، کپڑے، پلاسٹک اور شیشے کے برتن سب ہی پاکستان میں بنتی تھیں اور استعمال کی جاتی تھیں۔ اب تو اس کے علاوہ موبائل سے لے کر سرجیکل آلات کھیل کے سامان گاڑیاں الیکٹرونک اشیا سب ہی پاکستان میں بن رہا ہے تو پھر کیوں غیر ملکی مصنوعات کو ترجیح دی جائے۔ اصل بات یہ ہے کہ پاکستانی مصنوعات کی کمزور مارکیٹنگ اور دوسری طرف غیر ملکی مصنوعات کی برانڈنگ نے ملکی معیشت کی لٹیا ڈبوئی۔ مقامی تاجر مارکیٹنگ پر بھاری رقم خرچ نہیں کرسکتا ورنہ پاکستانی مصنوعات بہتر معیار کی ہیں۔ لیکن لوگ اشتہارات دیکھ دیکھ کر غیر ملکی مصنوعات کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ پھر ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ہماری اشرافیہ غیر ملکی برانڈ فخریہ اور شوقیہ استعمال کرتی ہے۔ ان کے شوق پورے کرنے کے لیے بیرون ملک سے مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں پھر لوگ اپنے آپ کو اپر کلاس میں شامل کرنے کے لیے اس کا استعمال شروع کردیتے ہیں پھر تو باہر کے برانڈ کے استعمال کے لیے ایک دوڑ شروع ہوجاتی ہے۔ باہر کی مصنوعات کی ڈیمانڈ بڑھتی چلی جاتی ہے اور ملکی مصنوعات بڑے بڑے اسٹور میں منہ چھپانے لگتی ہیں۔ لوگ ان کی طرف سے منہ گھما کر پیٹھ پھیر کر گزر جاتے ہیں۔ لہٰذا بہت سنجیدگی سے اشرافیہ کو پاکستانی مصنوعات کو فخریہ استعمال کرنا ہوگا۔ ہمارے وزیراعظم، وزیر، مشیر، اسمبلیوں کے ارکان سب باہر کی مصنوعات کا استعمال ترک کریں گے اور پاکستانی مصنوعات کو ترجیح دیں گے تو ملکی معیشت کا پہیہ رواں ہوگا۔ پاکستان بزنس فورم اور تنظیم تاجران پاکستان نے تاجروں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو یہ ایک بہترین موقع فراہم کیا ہے کہ شہر قائد میں ایکسپو سینٹر میں 18 اور 19 جنوری کو ’’میرا برانڈ پاکستان میڈ اِن پاکستان‘‘ کا انعقاد کیا ہے۔ یہ شہر کراچی کے لیے باعث فخر ہے کہ پہلا میرا برانڈ پاکستان میڈ ان پاکستان نمائش کا انعقاد یہاں کیا گیا۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ پاکستانی مصنوعات کی تشہیر اور ملکی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے پورے ملک میں ایسے پروگرام رکھے جائیں جہاں عوام بھرپور طریقے سے ان میں شرکت کریں، صنعت کار اور تاجر بھی عوام کی قوت خرید کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمت اور معیار کا دھیان رکھیں اور ایماندار اور سچائی پر استقامت اختیار کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میرا برانڈ پاکستان پاکستانی مصنوعات کی مصنوعات کی مصنوعات کو کی معیشت غیر ملکی کے لیے ملک کی کیا ہے

پڑھیں:

پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی

وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع