Jasarat News:
2026-07-24@15:41:42 GMT

میرا برانڈ پاکستان کا مقصد؟؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT

میرا برانڈ پاکستان کا مقصد؟؟

میرا برانڈ پاکستان کا مقصد کیا ہے؟ یہ سوال لوگوں کے ذہن میں اُٹھتا ہے۔ اس کا جواب ہر ایک کے پاس کافی اور شافی ہونا چاہیے تاکہ سوال کرنے والوں کو جواب دیا جاسکے۔ بلکہ صرف سوال کرنے والوں کے جواب کے لیے نہیں بات کی جانی چاہیے بلکہ اس موضوع کو عام بات چیت کا محور بھی بنانا چاہیے۔ کیونکہ اس میں ہماری ترقی اور غلامی سے نجات کا راز چھپا ہے۔

میرا برانڈ پاکستان کا مقصد پاکستانی صنعتوں کی مہارت کو اجاگر کرنا مقامی طور پر تیار کی گئی، اشیا کو عالمی سطح پر فروغ دینا ملک کی اقتصادی ترقی کو نئی جہت نیا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے تا کہ پاکستانی کاروباری، سرمایہ کار اور جدت پسندوں کو اپنی مصنوعات اور خدمات کو فروغ دینے کے لیے ایک موقع ملے وہ اپنے آپس کے تعاون کو فروغ دیں، نئے نئے کاروباری خیالات (آئیڈیاز) لے کر اس میں شریک ہوں اور اپنے اپنے میدان میں آگے بڑھیں۔ عالمی منڈی میں اپنی قابلیت کو پیش کریں، میڈ اِن پاکستان کی مصنوعات کی برانڈنگ کریں، اس کو قابل فخر بنائیں، اپنی مہارت، محنت اور قابلیت کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کو ملکی سطح پر ہی نہیں عالمی سطح پر بھی فروغ دیں۔ پاکستانی برانڈ کی مصنوعات کو فروغ دینے میں ہماری معیشت کی بقا ہے۔ ملک کو مضبوط و محفوظ بنانے اور گداگری کا کاسہ پھینکے۔ آئی ایم ایف کے در کی غلامی سے نجات کے لیے پاکستانی مصنوعات کا استعمال اور فروغ ضروری ہے۔ آسان الفاظ میں کہیں تو کسی بھی ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کی ایکسپورٹ یعنی برآمدات درآمدات سے زیادہ ہونی چاہیے یعنی اپنے ملک کی مصنوعات زیادہ فروخت ہونی چاہئیں اور دوسرے ملک سے خریداری کم ہونی چاہیے۔ کیونکہ اس کے لیے زرمبادلہ چاہیے ہوتا ہے جس کی ملک میں پہلے ہی کمی ہے اگر ہم اپنے ملک کی مصنوعات چھوڑ کر باہر کی مصنوعات خریدیں گے تو مزید قرضوں میں جکڑتے چلے جائیں گے۔ اس وقت تو ویسے بھی غزہ کے باعث یہودی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا لازم ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ ملک کی بنی اشیا کا خریدنا بھی لازم ہے۔ تا کہ ملک کی معیشت بہتر ہو، ڈالر کی قدر میں کمی آئے، روپے کی قدر میں اضافہ ہو، زرمبادلہ کے ذخائر جتنے زیادہ ہوں گے ملک کی حالت اتنی ہی بہتر ہوگی۔

کچھ لوگ بائیکاٹ مہم کو صحیح اور اہم سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ بائیکاٹ تو ممکن ہی نہیں ہے، کیوں کہ ہم ہر شے غیر ملکی استعمال کررہے ہیں اور ہمارے ملک میں بنتا ہی کیا ہے؟ اور جو بنتا بھی ہے تو اس کا معیار ٹھیک نہیں۔ یہ بات درست نہیں ماضی میں بھی استعمال کی بیش تر اشیا مثلاً صابن، سرف، شیمپو، مشروبات، دودھ، ٹوتھ پیسٹ، کپڑے، پلاسٹک اور شیشے کے برتن سب ہی پاکستان میں بنتی تھیں اور استعمال کی جاتی تھیں۔ اب تو اس کے علاوہ موبائل سے لے کر سرجیکل آلات کھیل کے سامان گاڑیاں الیکٹرونک اشیا سب ہی پاکستان میں بن رہا ہے تو پھر کیوں غیر ملکی مصنوعات کو ترجیح دی جائے۔ اصل بات یہ ہے کہ پاکستانی مصنوعات کی کمزور مارکیٹنگ اور دوسری طرف غیر ملکی مصنوعات کی برانڈنگ نے ملکی معیشت کی لٹیا ڈبوئی۔ مقامی تاجر مارکیٹنگ پر بھاری رقم خرچ نہیں کرسکتا ورنہ پاکستانی مصنوعات بہتر معیار کی ہیں۔ لیکن لوگ اشتہارات دیکھ دیکھ کر غیر ملکی مصنوعات کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ پھر ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ہماری اشرافیہ غیر ملکی برانڈ فخریہ اور شوقیہ استعمال کرتی ہے۔ ان کے شوق پورے کرنے کے لیے بیرون ملک سے مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں پھر لوگ اپنے آپ کو اپر کلاس میں شامل کرنے کے لیے اس کا استعمال شروع کردیتے ہیں پھر تو باہر کے برانڈ کے استعمال کے لیے ایک دوڑ شروع ہوجاتی ہے۔ باہر کی مصنوعات کی ڈیمانڈ بڑھتی چلی جاتی ہے اور ملکی مصنوعات بڑے بڑے اسٹور میں منہ چھپانے لگتی ہیں۔ لوگ ان کی طرف سے منہ گھما کر پیٹھ پھیر کر گزر جاتے ہیں۔ لہٰذا بہت سنجیدگی سے اشرافیہ کو پاکستانی مصنوعات کو فخریہ استعمال کرنا ہوگا۔ ہمارے وزیراعظم، وزیر، مشیر، اسمبلیوں کے ارکان سب باہر کی مصنوعات کا استعمال ترک کریں گے اور پاکستانی مصنوعات کو ترجیح دیں گے تو ملکی معیشت کا پہیہ رواں ہوگا۔ پاکستان بزنس فورم اور تنظیم تاجران پاکستان نے تاجروں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو یہ ایک بہترین موقع فراہم کیا ہے کہ شہر قائد میں ایکسپو سینٹر میں 18 اور 19 جنوری کو ’’میرا برانڈ پاکستان میڈ اِن پاکستان‘‘ کا انعقاد کیا ہے۔ یہ شہر کراچی کے لیے باعث فخر ہے کہ پہلا میرا برانڈ پاکستان میڈ ان پاکستان نمائش کا انعقاد یہاں کیا گیا۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ پاکستانی مصنوعات کی تشہیر اور ملکی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے پورے ملک میں ایسے پروگرام رکھے جائیں جہاں عوام بھرپور طریقے سے ان میں شرکت کریں، صنعت کار اور تاجر بھی عوام کی قوت خرید کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمت اور معیار کا دھیان رکھیں اور ایماندار اور سچائی پر استقامت اختیار کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میرا برانڈ پاکستان پاکستانی مصنوعات کی مصنوعات کی مصنوعات کو کی معیشت غیر ملکی کے لیے ملک کی کیا ہے

پڑھیں:

نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟

فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔

’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔

اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔

یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔

دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • زندگی کا مقصد
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ