Nai Baat:
2026-07-24@15:13:38 GMT

ہائے یہ خوشامدی چیلے نہ اِدھر کے نہ اُدھر کے…

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT

ہائے یہ خوشامدی چیلے نہ اِدھر کے نہ اُدھر کے…

کسی آفس، تقریب، خوشی مرگ کے مواقع، چھوٹے گروپس سے بڑے اداروں تک، سرکاری دفاتر سے ہر ماحول میں آپ نے ان لوگوں کو ضرور اپنے اردگرد پایا ہوگا جو خود کسی کام کے تو نہیں ہوتے مگر وہ کھانے پینے سے لے کر اپنی دیہاڑی لانے اور مفادات کی خاطر آپ کی تعریفیں کرتے تھکتے نہیں وہ اس قدر آپ کے بارے بول بولتے ہیں کہ آپ زمین نہیں آسمان پر ہیں۔ آپ کے اس قدر گن گاتے ہیں کہ بعض اوقات شرمندگی محسوس ہونے لگتی ہے۔ آپ کے یہ دوست لوگ کون ہیں؟ کبھی آپ نے ان کو پہچاننے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح ہمارے اردگرد کے ماحول میں یوں تو بڑے بڑے ایکٹر کریکٹر صبح سے رات گئے تک کہیں ایک دوسرے کی مخالفتیں کرتے تو کہیں اپنے مفادات کے لئے آپ کی خاطر خوشامدی باتیں کرتے ہوئے آپ کو بڑا مکھن لگاتے ہیں۔ یوں تو اب مارکیٹ میں اتنے برینڈ کے مکھن آ گئے ہیں کہ نہیں پتہ کہ کس مکھن کی تاثیر کتنی اچھی ہے اگر اب مکھن کا ذکر چلا ہے تو وہ کون کس کو نہیں لگاتا آپ نامور ہیں، آپ کا شمار بڑے لوگوں میں ہوتا ہے یا بڑے لوگوں کے درمیان اٹھتے بیٹھتے ہیں یا دوسروں کی نظر میں بڑے پن کے طور پر جب آپ کو لے لیا جاتا ہے تو پھر مان جایئے کہ آپ کے اردگرد دوستی کی آڑ میں خوشامدی اکٹھے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جو آپ کا دماغ خراب نہ ہونے کے باوجود خراب کر دیتے ہیں۔ آپ کچھ کریں نہ کریں وہ آپ کو ایسا مکھن لگائیں گے کہ انسان سوچتا ہے کہ یہ تو میری اوقات ہی نہیں۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ یہ خوشامدی لوگ کون ہوتے ہیں یا کبھی ہم ان کو ’’چمچے‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ کون اور کہاں سے آ جاتے ہیں۔ خاص کر سرکاری افسران بالا کے اردگرد گھومنے والی کلاس کے اندر ان کی بڑی کلاسز ہوتی ہیں اور جب تک آپ سے ان کے مفاد پورے نہیں ہو جاتے وہ آپ کی نسلوں کے اندر بھی اترنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اگر ان کی خوشامدیوں کی قسموں کو دیکھیں تو ان میں ایک ہوتے ہیں ’’ویلے‘‘ جن کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا اور اپنے کام نکلوانے کے لئے مکھن کی فیکٹری ساتھ رکھتے ہیں۔ دوسرے وہ خوشامدی جو دفتر کے اندر عہدے کے مطابق اپنے افسران کی قربت حاصل کرنے کے لئے پورے آفس میں ان کی تعریفیں کرتے تھکتے نہیں۔ خاص کر چھوٹے سٹاف کی شکل میں تو بڑے خوشامدی نظر آئیں گے۔ وہ آفس کے کام کم تو افسران کے ذاتی کاموں کو سرانجام دینے کے لئے بڑے خوش نظر آتے ہیں اور بعض ان کے بچوں اور بیگمات تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کو افسران کے آنے اور جانے یعنی ہر وقت ان کے وقت پر گہری نظر ہوتی ہے اور جس دن صاحب دفتر نہیں آتے تو دوسرے لوگوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ صاحب لاہور سے باہر گئے ہیں اور مجھے پتہ ہے کیوں گئے ہیں۔


ایک مثل مشہور ہے کہ جہاں دو خوشامدی اکھٹے ہوتے ہیں تو وہاں شیطان رخصت پہ چلا جاتا ہے۔ آج کے دور میں ان خوشامدی حضرات کو بڑا واضح دیکھا جا سکتا ہے۔ ہم سوشل میڈیا کے بڑے خطرناک دور سے گزر رہے ہیں اگر میں غلط نہ کہوں تو ہر سیاسی جماعت کے اندر ایک ریاست موجود ہے اور اس ریاست پر بڑے بڑے خوشامدی براجمان ہیں جو ظل سبحانی، عالی جناب ، عالی مرتبت، عالم پناہ، جہاں پناہ اور جان کی امان پاؤں تو عرض کرنے کے لئے ہمہ تن آپ کی اجازات کے طلب گار نظر آتے ہیں۔ ان خوشامدی، مداری ، اور خاص کر نامور درباریوں نے تو اقتدار کے ایوانوں تک کے گرد گھیرا تنگ کر رکھا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو حاکموں کو سب اچھا ہے کہہ کر تمام حالات سے بے خبر اور بے خوف کرتے رہتے ہیں۔ ان کی شاہانہ طرز زندگی، شاہانہ طعام و جام اور شاہانا جاہ و جال پرانے بادشاہوں اور شہزادوں سے کہیں بھی کم تر نہیں ہوتے۔ اب ان خوشامدیوں کا ذکر کرتے چلیں جب آپ ٹی وی آن کرتے ہیں تو بڑے نامور خوشامد تمام چھوٹے بڑے چینلز پر بھی اپنی شاہانہ خوشامدی گفتگو کے ساتھ رات کو لگنے والی عدالتوں میں جلوہ افروز ہوتے ہیں اور جس ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ وہ اپنے لیڈر کی شان میں ایسی ایسی گفتگو فرماتے ہیں کہ خدا کی پناہ اللہ تیری شان اور ایسے قصیدے اور دفاع کرتے ہیں جنہیں دیکھ کر عام آدمی بھی شاید پانی پانی ہو جاتا ہوگا مگر مجال ہے کہ ان کے چہرے پر ایک لمحہ بھی شرمندگی آئے اور تو اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ جہاں تاریخ کو ادھیڑتے نظر آتے ہیں وہاں جھوٹ اس قدر بولتے ہیں کہ بعض اوقات وہ سچ نظر آنے لگتا ہے۔ ہماری سول سوسائٹی ہو یا سیاسی قد کاٹھ والے بونے خوشامدی در اصل ملک و ملت کو ہی نہیں بلکہ ہماری تھوڑی بہت بچی کھچی جمہوریت کو بھی دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انہی کے ٹکڑوں پہ پلنے والے جب اپنی بھوک مٹانے کے لئے جیسے ہی ان کی حکمرانی جاتے دیکھتے ہیں تو مٹھائیاں تقسیم کرتے اور بھنگڑے ڈالتے فوٹو شوٹ کرانے کے لئے ادھار مٹھائیاں بھی خریدتے ہیں پھر ان کی جگہ آنے والے حکمرانی میں حصہ بقدر اپنی جگہ بنانے کے لئے کوشاں ہو جاتے ہیں اور آنے والے کے ساتھ بھی اپنے سابقہ کردار ادا کرنے کے لئے عوام میں ان کی مقبولیت کھونے کا احساس تک نہیں ہونے دیتے۔
سن تو سہی جہاں میں تیرا افسانہ ہے کیا
کہہ رہی ہے مخلوق خدا تجھے غائبانہ کیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Nai Baat

کلیدی لفظ: کے ساتھ ہیں اور نہیں ہو کے اندر کے لئے تے ہیں ہیں کہ

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • کوہاٹ دہشتگرد حملہ، وزیراعظم اور صدر مملکت کی شدید مذمت
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی