میری دعا ہے اگر دو نمبری ہو رہی ہے تو بھی مذاکرات کامیاب ہوں ، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14 جنوری 2025)وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ میری دعا ہے اگر دو نمبری ہو رہی ہے تو بھی مذاکرات کامیاب ہوں،مجھے ایسے ہی ٹارگٹ کررہے ہیں کہ مذاکرات ناکام ہوں، ایک بھی نکتہ ایسا نہیں کہ مذاکرات کامیابی کی طرف جائیں،پی ٹی آئی والوں کی نیتوں پر 100 فیصد شک ہے،جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ میری اوقات نہیں کہ مذاکرات ناکام یا کامیاب بناوں۔
تحریک انصاف کا مقصد کامیابی نہیں بلکہ وہ بندہ ڈھونڈ رہے ہیں جس پر ناکامی کا ملبہ ڈالا جائے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف سمیت پارٹی لیڈرشپ مذاکرات کے حق میں ہے۔سینئر لیگی رہنماء رانا ثناءاللہ اور دیگر ساتھی مذاکرات کے حق میں ہیں جبکہ میں بھی مذاکرات کے حق میں ہوں لیکن یہ لوگ مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں۔(جاری ہے)
کہ یہ وقت ضائع کر رہے ہیں لیکن مقاصد کچھ اور ہیں۔
یہ مذاق رات ہیں، مذاکرات نہیں۔پی ٹی آئی والے وقت گزار رہے ہیں ان کے مقاصد کچھ اور ہیں۔ وہ عمران خان کو مذاکرات کے ذریعے باہر لانے میں سنجیدہ نہیں مجھے ان کی نیتوں پر شک ہے۔ بہت سے لوگوں کے ہاتھ میں گیم آگئی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءشوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کے معاملے پر پیش رفت نہ ہوئی تو مذاکرات ختم ہو جائیں گے۔میری خواہش ہے مذاکرات کامیاب ہوجائیں تاکہ ملک میں استحکام آئے، احتجاج کا حق ہم سے کسی نے نہیں چھینا تھا۔جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنماءپی ٹی آئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی اورانصاف نہیں ہوگا توہمارے پاس احتجاج کے علاوہ اورکیا راستہ رہ جاتا تھا۔ 9 مئی اور 26 نومبرکے واقعات پرجوڈیشل کمیشن بنانے کے معاملے پرپیش رفت نہ ہوئی تومذاکرات ختم ہو سکتے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں رہنماءپی ٹی آئی شوکت یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ مارچ میں آئی پی پیزکا پھرمسئلہ شروع ہوجائے گا۔ ترسیلات زر میں اضافے کی ہمیں خوشی تھی مگر حکومت نے 27 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا ہے اس کا بتانا پڑے گا۔یہ قرضے آئی پی پیز کیلئے لے رہے ہیں۔انتخابات ایک سال پہلے یا ایک سال بعد بھی ہوسکتے تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مذاکرات کے حق میں مذاکرات کامیاب پی ٹی آئی رہے ہیں
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔