بانی پی ٹی آئی علی امین گنڈا پور اور شیخ وقاص اکرم سے ناخوش
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان نے 8 فروری کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی کو احتجاج کی تیاری کرنے کی ہدایت کردی۔
نجی ٹی وی کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور پی ٹی آئی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم سے ناخوش ہیں۔
عمران خان نے وکلا کے ساتھ ملاقات میں علی امین گنڈا پور اور شیخ وقاص اکرم کا ذکر کیا، بانی پی ٹی آئی نے کہا شیخ وقاص اکرم پارٹی کے انفارمیشن سیکرٹری ہیں علی امین گنڈا پور کے نہیں، عمران خان نے کہا علی امین گنڈا پور کو کہنا ڈیرہ اسماعیل خان سے باہر نکل آئے۔
بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وکیل کو شیخ وقاص اکرم اور علی امین گنڈاپور کو پیغام دینے کی ہدایت کردی۔
اس کے علاوہ عمران خان نے 8 فروری کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی کو احتجاج کی تیاری کرنے کی ہدایت کردی۔
بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز کو اپنے اپنے علاقوں میں احتجاج کی تیاری کی ہدایت کی گئی ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے پارٹی قیادت کو مولانا فضل الرحمان کے خلاف بیانات سے روک دیا اور شاہد خاقان عباسی سمیت تمام اپوزیشن رہنماوں کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کردی۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا افغانستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی پر ہمارا اور مولانا فضل الرحمان کا ایک مؤقف ہے، عمران خان نے کہا شیخ وقاص اکرم علی امین گنڈا پور کی نہیں پارٹی کی ترجمانی کرے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا ترجمان بیرسٹر سیف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شیخ وقاص اکرم کی ہدایت کردی پی ٹی ا ئی نے کہا
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔