حبیب میٹرو ضامن انفرا پاکستان کے درمیان شراکت داری
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
کراچی(کامرس رپورٹر) انفرا ضامن پاکستان (آئی زیڈ پی) اور حبیب میٹرو نے جعفر بزنس سسٹمز کے لئے 800 ملین روپے کی ٹریڈ فنانس سہولت کے بدلے 600 ملین روپے کی پہلی قلیل مدتی ضمانت کامیابی کے ساتھ جاری کر دی ہے۔ یہ تاریخ ساز اشتراک جعفر بزنس سسٹمز (جے بی ایس)، ایک مستند ٹیکنالوجی اور کاروباری حل فراہم کرنے والا ادارہ، کو ڈیجیٹل اور ا?ئی ٹی انفراسٹرکچر سلوشنز میں اپنے کاروبار کو وسعت دینے میں مدد فراہم کرے گا۔یہ ضمانتی ڈھانچہ جعفر بزنس سسٹمز کے کاروباری ا?پریشنز میں تیزی لائے گااور ضروری ا?ئی ٹی انفراسٹرکچر کی درآمد کے لئے تجارتی فنانس میں سہولیات کی محدود دستیابی کے مسئلہ کو حل کرے گی۔ یہ سہولت جے بی ایس کو اپنے صارفین بالخصوص بینکوں اور بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو فوری آئی ٹی آلات، انفراسٹرکچر اور سہولیات فراہم کرنے کے قابل بنائے گی اور پاکستان کی اقتصادی اور ڈیجیٹل ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ٹریڈ فنانس کے لئے انفرا ضامن کی طرف سے پہلی بار پاکستانی روپے میں قلیل مدتی گارنٹی کی حیثیت رکھتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔