مارگلہ ویو پوائنٹ پر عوام کو کون سی سہولیات مہیا کی جائیں گی؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
مارگلہ کی پہاڑی چوٹی پر واقع مونال اور دیگر ریسٹورنٹس کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا ہے لیکن عمارتوں کا ملبہ ہٹائے جانے کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔
وائلڈ لائف مینجمنٹ کے ایک ممبر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وی نیوز کو بتایا کہ مونال ریسٹورنٹ کی جانب سے مارگلہ ہلز پر جان بوجھ کر گندگی پھیلائی جا رہی ہے تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ جب وہ خود یہاں تھے تو انہوں نے اس جگہ کو بہت صاف ستھرا رکھا ہوا تھا اور ریسٹورنٹ ختم ہونے کے بعد سے گندگی میں اضافہ ہورہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مارگلہ ہلز پر دیگر ریسٹورنٹس بھی مسمار کیے جائیں، سپریم کورٹ نے اعتراض پر رپورٹ طلب کرلی
منصور شیروانی اسلام آباد سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ مارگلہ ہلز و وائلڈ لائف کے حوالے سے لوگوں کو آگاہی دیتے ہیں۔ انہوں نے وی نیوز کو بتایا کہ مونال اور دیگر ریسٹورنٹس کی جگہ پر جو نیا منصوبہ بنایا جا رہا ہے اس کا مقصد مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی پہاڑی چوٹی کو بحال کرنا، وہاں کے قدرتی ماحول کو محفوظ کرنا، اس ٹیریٹری میں موجود جانوروں کو محفوظ کرنا اور عوام کو ایک صحت افزا تفریحی مقام فراہم کرنا ہے۔
منصور شیروانی نے کہا کہ اس کو مارگلہ ویو پوائنٹ بنایا جائے گا جس کے لیے وہاں صفائی کرواکر پودے بھی لگائے جائیں گے، عوام کے لیے بینچز کی تنصیب ہوگی، ایک تالاب بنایا جائے گا، ایک فرسٹ ایڈ روم بنایا جائے گا اور مختلف بورڈز نصب کیے جائیں گے جن پر مارگلہ میں موجود جانوروں اور پودوں کے بارے میں معلومات درج ہوں گی۔
مزید پڑھیے: مونال کی بندش کے بعد، مارگلہ ہلز پر کون سا نیا منصوبہ شروع کیا جارہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ’یہ پروجیکٹ ابھی مکمل نہیں ہوا لیکن جب ہو جائے گا تو یہ دنیا کے بہترین ویو پوائنٹس میں سے ایک ہوگا اور ہر شخص بلاتفریق یہاں آکر قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہو سکے گا‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد مارگلہ پہاڑیاں مارگلہ نیشنل پارک مارگلہ ہلز مارگلہ ویوپوائنٹ مونال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد مارگلہ نیشنل پارک مونال جائے گا
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔