Daily Ausaf:
2026-06-03@00:10:36 GMT

ملیر کی قیمتی زمین ملک ریاض کو مفت دی گئی، سلمان اکرم راجہ

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ملیرمیں قیمتی زمین مفت ملک ریاض خاندان کو دی گئی، برطانوی حکومت نے اس کیس میں کہا یہ رقم مشکوک ہے۔ ٹرانزیکشن کے بعد برطانوی حکومت نے یہ خاندان برطانیہ میں نہ رہے اورنا ان کی رقم چائیے۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ملیرمیں قیمتی زمین مفت ملک ریاض خاندان کو دی گئی، برطانوی حکومت نے اس کیس میں کہا یہ رقم مشکوک ہے۔ ٹرانزیکشن کے بعد برطانوی حکومت نے کہا کہ یہ خاندان برطانیہ میں نہ رہے اورنا ان کی رقم چائیے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ القادر ٹرسٹ کے حوالے سے کہا کہ برطانیہ میں ملک ریاض فیملی کے نو اکاوئنٹس پائے گیے ، نیشنل کرائم ایجنسی نے ان اکاوئنٹس کا آڈٹ کیا گیا تھا۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ برطانوی حکومت نے بزنس ٹائیکون کی اپیلیں خارج کی اورانکے ویزہ بھی منسوخ کیے، حقیقت پہلے بھی واضح تھی کہ بزنس ٹائیکون کے کچھ اکؤنٹس برطانیہ میں فریز ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہ ایک اکاؤنٹ سے حسن نواز خان سے خریداری کی گئی، بزنس ٹائیکون کو 460 ارب روپے کی اراضی زمین کراچی کے وسط میں دی گئی تھی۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ملک ریاض کے خلاف برطانیہ میں کوئی جرم ثابت نہیں تھا، صرف ان کے اکاؤنٹس میں پیسہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل کرائم ایجنسی اور ملک ریاض کے مابین ایک معاہدہ ہوا، یہ دو فریقین کا معاہدہ ہے، معاہدہ میں لکھا ہے کہ فریز اکاؤنٹس کو ڈی فریز کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ معاہدے میں لکھا گیا کہ جورقم ہے وہ ریلیز کیا جائے گا اورسپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جائی گی،
بلکل غلط مفروضہ تھا کہ ملک ریاض نے ملیر کے زمین کی رقم ادا کرنی تھی۔
مزیدپڑھیں:سردی کی شدید لہر،21 جنوری سے بارش کی پیشگوئی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجہ نے کہا برطانوی حکومت نے برطانیہ میں نے کہا کہ ملک ریاض

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان