ٹرمپ نےکرپٹو کرنسی کوائن لانچ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
واشنگٹن(نیوز ڈیسک)نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ کی کرپٹوکرنسی کی مارکیٹ میں انٹری ہو گئی ٹرمپ نےکوائن لانچ کردیا جس کا نام ٹرمپ ڈالر رکھا ہے۔دوروز میں ہی کوائن کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 6 ارب ڈالرتک پہنچ گئی،خبرایجنسی کے مطابق کرپٹو کر نسی اوربلاک چین پلیٹ فارم سولانانے کوائن کوتیارکیا، خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ لانچ کےوقت 20کروڑ سکے ہی جاری کیے،اگلے 3 سالوں میں مجموعی سپلائی کوایک ارب سکوں تک بڑھایاجائے گا۔ سوشل پلیٹ فارم اور ایکس پر پوسٹ کئے گئے ایک پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سکے کی نقاب کشائی کی، جسے کسی خاص شخصیت، تحریک یا وائرل انٹرنیٹ ٹرینڈ کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق سکے کی آفیشل ویب سائٹ پر جولائی 2024ء میں ریپبلکن کے خلاف قتل کی کوشش کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ یہ ٹرمپ میم ایک ایسے رہنماء کا جشن مناتا ہے جو پیچھے نہیں ہٹتا، چاہے کوئی بھی رکاوٹ کیوں نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:پاکستان نے ہوم ایڈوانٹیج کی وجہ سے مشکل پچ تیار کروائی، ویسٹ انڈیز کپتان
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔