چوہدری پرویز الہی کیخلاف غیر قانونی بھرتیوں کے کیس کی سماعت ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 جنوری2025ء) لاہور کی انسداد رشوت ستانی کی خصوصی عدالت نے پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں کے الزام میں درج مقدمے میں سابق وزیر اعلی و سابق سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف کیس کی سماعت 4 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے دیگر ملزمان کی حاضری لگا دی اور چوہدری پرویز الہی کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔
(جاری ہے)
عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر تمام ملزمان کو پیش کیا جائے تاکہ فرد جرم کی کارروائی مکمل کی جا سکے۔اینٹی کرپشن عدالت کے جج سردار محمد اقبال ڈوگر نے منگل کوکیس کی سماعت کی۔ چوہدری پرویز الہی کی حاضری معافی کی درخواست جمع کروائی گئی ۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پرویز الہی کی طبیعت ناساز ہے ڈاکٹرز نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے، عدالت نے ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی جبکہ چوہدری پرویز الہی کے شریک ملزم محمد خان بھٹی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کا نام ای سی ایل (ایگزٹ کنٹرول لسٹ) میں شامل کر دیا گیا ہے، جس پر عدالت نے انہیں متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عدالت نے
پڑھیں:
اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
اغوا برائے تاوان کیس میں پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے وکیل نے عدالت سے ضمانت واپس لینے کی درخواست کی ہے۔
کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں اداکار منیب بٹ کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ان کے وکیل نے ضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کر دی۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنے چالان میں منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا ضمانت کی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدعی محمد متعال کو اغوا کر کے 24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر سامان لوٹ لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ منیب بٹ پر ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے کا الزام تھا، تاہم تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں ایک پولیس اہلکار غالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا اور کرپٹو کرنسی سمیت دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد انہیں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ دیا تھا۔