پاکستان غزہ میں بحالی اور تعمیر نو کے عمل میں اپنا کردار ادا کریگا: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ غزہ میں بحالی اور تعمیر نو کے عمل کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کرےگا۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ غزہ میں بہت خونریزی کے بعد جنگ بندی ہوئی، 50 ہزارسے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ غزہ میں شہید ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے، غزہ میں بحالی اور تعمیر نو کے عمل کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کرےگا۔
ملکی حالات پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہا تھا کہ قتل و غارت کا بازار گرم کرنے والے پاکستان کے صریحاً دشمن ہیں، ملک دشمن نہیں چاہتے گوادر بندرگاہ فعال ہو، گوادر ایئر پورٹ سے پاکستان کی معیشت کو فائدہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی بینک کے ساتھ شراکت داری کا فیصلہ کیا ہے،آئی ٹی ایکسپورٹس میں بتدریج اضافہ خوش آئند ہے۔
لاہور: شادی سے بچنے کیلئے نوجوان نے کیا کیا ؟ عجیب و غریب واقعہ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف
— تصویر بشکریہ سوشل میڈیاکراچی کے علاقے اولڈ سٹی ایریا لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
اس حوالے سے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران 2 قدیم طرز کے مجسمے برآمد ہوئے ہیں، ملنے والی اشیاء کی ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے جانچ کرائی جائے گی۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ برآمد ہونے والے مجسموں کی عمر اور تاریخی اہمیت کا تعین ماہرین کریں گے، تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے برآمد اشیاء کی مکمل دستاویزات اور ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔
پاکستان اور فرانس کے درمیان آثار قدیمہ کے میدان میں تعاون ایک نئے سنگِ میل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سائنسی تعاون کے اتاشی نے کراچی میں انڈس بیسن (MAFBI) میں فرانسیسی مشن کے سربراہ ڈاکٹر اورور ڈیڈیئر سے ملاقات کی اور سندھ میں 2025 کے مشترکہ فیلڈ ورک سیزن کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران دریافت ہونے والی اشیاء کو محفوظ کر لیا گیا ہے، کے ایم سی شہر کے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے یہ بھی کہا ہے کہ لی مارکیٹ سے ملنے والی اشیاء کا سائنسی معائنہ کرایا جائے گا، تاریخی نوعیت کی دریافت پر مزید کھدائی احتیاط سے کی جا رہی ہے۔