انگلینڈ کے ضیاء الرحمان کی جڑواں بیٹیوں کا رشتہ کراچی 2 سگے بھائیوں کا میچ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
دل کا رشتہ ایپ نے انگلینڈ کے ضیا الرحمٰن کی جڑواں بیٹیوں کا میچ بھی کراچی کے دو سگے بھائیوں کے ساتھ بنا دیا۔
ضیا الرحمٰن نے پاکستانی رشتوں کے لیے اپنی بیٹیوں کے پروفائل جب ’دل کا رشتہ‘ ایپ پر بنائے تو جلد ہی کراچی کے عظیم صدیقی کے بیٹوں سے نا صرف میچ بن گیا بلکہ دونوں خاندانوں کی باہمی رضامندی سے شادیاں بھی طے ہو گئیں۔
دل کا رشتہ ایپ پاکستان کی پہلی رشتہ ایپ ہے جو لاکھوں تصدیق شدہ پرو فائلز کے ساتھ پاکستان کی نمبر ون ایپ بن چکی ہے۔
پاکستان میں تقریباً ہر گھر کو درپیش رشتے کی تلاش کے اہم ترین مسئلہ کو حل کر نے کا بیڑا ʼʼدل کا رشتہ‘‘ ایپ نے اُٹھایا ہے۔ ایپ متعارف کروائے جانے کے بعد صارفین کی بڑی تعداد اس میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
دل کا رشتہ کی ٹیم اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ شادی کے خواہشمند سنجیدہ افراد کی 100فیصد تصدیق کے عمل کو شفاف بنایا جائے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے نمائندے مرحلہ وار ایپ پر درج صارف کی معلومات کو نہ صرف فو ن پر ویریفائی کرتے ہیں بلکہ ان کے گھر کا وزٹ کرتے ہوئے ان کے کوائف کی تصدیق بھی کرتے ہیں۔
صارفین خصوصاً خواتین کی رازداری اور ان کی ذاتی تفصیلات کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔
صارفین اپنے ممکنہ میچ کی پروفائل صرف اسی صورت میں دیکھ سکتے ہیں جب دوسرا شخص انہیں خاص طور پر اجازت دے۔ یہاں تک کہ اسکرین شاٹس بھی ایپ کے ذریعہ خود بخود بلاک ہو جاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دل کا رشتہ
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔