تجاوزات کے خاتمے کیلئے آپریشن کریں گے،ڈپٹی کمشنر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) ڈپٹی کمشنر زین العابدین میمن نے شہباز ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ر انی باغ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت دوبارہ تعمیر کیا جائے گا جس کی بولی بہت جلد کھولی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مین ہولز کو ڈھکن لگانے کیلئے زیرو ٹالرنس کے تحت کام کیا جا رہا ہے اورگول بلڈنگ کے قریب تجاوزات کا خاتمہ محکمہ بلدیات کے تعاون سے کیا جائے گاجبکہ جرنلسٹ کی ہیلتھ انشورنس کے لیے بھی کام کیا جا رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن نے کہاکہ ضلع حیدرآباد میں فلیگ شپ پروجیکٹس شامل ہیںجس میں عبدالستار ایدھی روڈ فیز ون، فیز ٹو اور تھری شامل ہیں، ڈی سی حیدرآبادزین العابدین میمن نے کہا کہ عبدالستار ایدھی روڈ ٹو پر تجاوزات کا خاتمہ اور اورہیڈ برج بھی بنایا جائے گا جبکہ فیز تھری پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹنڈوجام بائی پاس کا دوسرا پروجیکٹ ہے جس پر ایک سڑک بن چکی ہے، بائی پاس ٹنڈوجام کے لیے زمین کے معاملات کلیئر ہوچکے ہیں اورپبلک ہیلتھ پروجیکٹ پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفرا اسٹرکچر پر بات کی جائے تو اس میں شہر کی پوش سڑک آٹو بھان روڈ شامل ہے،آٹو بھان روڈ بڑی اسکیم ہے جوکہ ہالاناکہ تک جائے گی، آٹو بھان روڈ پر ڈرنیج اور یوٹیلٹی لائن سائیڈ پر علیحدہ علیحدہ شامل ہے، آٹو بھان روڈ پر 3.
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ جائے گا کے لیے ہے اور
پڑھیں:
ہمیں دشمن نہ سمجھیں اور کشمیریوں کو نشانہ بنانا بند کریں، عمر عبداللہ
میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے بھی بیرون ریاستوں میں کشمیری نوجوانوں اور تاجروں کو نشانہ بنانے پر سخت دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وادی کشمیر سے باہر کشمیری طلباء اور تاجروں پر حملوں کی اطلاعات کے بعد جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ دیگر ریاستوں میں کشمیری عوام کو نشانہ بنانا بند ہونا چاہیئے۔ عمر عبداللہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ اطلاعات ہیں کہ مختلف ریاستوں میں کشمیریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں بھارت کے لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کشمیری عوام کو اپنا دشمن نہ سمجھیں"۔ عمر عبداللہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرکز یہ کہہ رہا ہے کہ حملہ پاکستان نے کیا ہے تو پھر جموں و کشمیر کے نوجوان، طلباء اور تاجروں کو دیگر ریاستوں میں کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی نے دعویٰ کہ انہوں نے کئی ریاستوں کے وزائے اعلٰی سے بات کی ہے اور ان سے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی حفاظت یقینی بنائے جانے کی درخواست کی ہے۔ جموں و کشمیر کے لوگ امن کے دشمن نہیں ہیں، جو کچھ بھی ہوا وہ ہماری مرضی سے نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس صورتحال سے باہر نکلنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو پہلگام حملے میں ہلاک ہونے والوں سے ہمدردی ہے، چاہے وہ مقامی شہری ہو جس نے ہمارے مہمانوں کو بچانے کے لئے گولیاں کھائیں یا وہ سیاح جو یہاں اپنی تعطیلات منانے آئے تھے، سب کے ساتھ ہمدردی ہے۔
ادھر میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے بھی بیرون ریاستوں میں کشمیری نوجوانوں اور تاجروں کو نشانہ بنانے پر سخت دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں لکھا کہ بیرون ریاستوں میں رہنے والے کشمیریوں خصوصاً طلباء پر پہلگام حملے کے بہیمانہ واقعے کے بعد حملوں کی ویڈیوز منظرعام پر آنے کے بعد جو خوف اور اضطراب پایا جا رہا ہے وہ نہایت تشویشناک ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں اور بیرون ریاستوں میں ان کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔