ڈاکٹرز کے حقوق پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا،ترجمان ینگ ڈاکٹر
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT
کوئٹہ(نمائندہ جسارت) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام علاج کی مفت اور معیاری سہولیات کی فراہمی کا حق رکھتی ہے، جس کے لیے حکومت، ینگ ڈاکٹرز اور تمام اسٹک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ سرکاری اسپتالوں میں علاج کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ہمیشہ اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ترجمان کے مطابق ینگ ڈاکٹرز کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، جن میں مستقل ملازمتیں، تنخواہوں میں اضافہ، پروموشنز، رہائشی سہولیات، اور دیگر اہم مسائل شامل ہیں۔ انہوں نے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ساتھ ہونے والے اتفاق رائے کو خوش آئند قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ ان مسائل کے حل سے بلوچستان میں صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے گرینڈ ہیلتھ الائنس بلوچستان کے پلیٹ فارم سے حالیہ جدوجہد میں اتحاد و نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے پر تمام ڈاکٹروں، سینئر رہنمائوں اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ ترجمان نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کی جانب سے بلوچستان کی عوام اور ملازمین کے لیے آواز بلند کرنے پر ان کے مشکور ہیں۔ مزید برآں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی میزبانی میں ایسوسی ایشن پاکستان کا پہلا کنونشن بلوچستان میں کرانے کا اعلان کیا گیا، جس کی تاریخ کابینہ کی منظوری کے بعد دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔