سپریم کورٹ آف پاکستان میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست دینے والے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری سلمان منصور کو معطل کردیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں سلمان منصور کو معطل کرنے کی منظوری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درجن سے زیادہ درخواستیں، اب تک سماعت کیوں نہ ہوسکی؟

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی نے مؤقف اختیار کیاکہ سلمان منصور نے عہدے کا رولز کے برعکس غلط استعمال کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست دائر کرنے کے لیے ضروری تھا کہ سلمان منصور صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ایگزیکٹو کمیٹی کی منظوری لیتے لیکن انہوں نے از خود درخواست دائر کی۔ انہیں اس سے قبل وارننگ بھی دی جا چکی تھی۔

دوسری جانب سلمان منصور نے معطل کیے جانے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ قواعد میں کوئی ایسی شق نہیں کہ کسی عہدیدار کو معطل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں کی سماعت اسی ہفتہ کی جائے، 2 سینیئر ججوں کا چیف جسٹس سے مطالبہ

انہوں نے کہاکہ مجھے معطل کرنے کی بات صدر کا محض ذاتی بیان ہے، ایگزیکٹو کمیٹی کسی عہدیدار کو معطل کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آئینی ترمیم کے خلاف درخواست ایگزیکٹو کمیٹی سپریم کورٹ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سلمان منصور سیکریٹری معطل وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئینی ترمیم کے خلاف درخواست ایگزیکٹو کمیٹی سپریم کورٹ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سیکریٹری معطل وی نیوز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ترمیم کے خلاف درخواست ا ئینی ترمیم کے خلاف 26ویں ا ئینی ترمیم ایگزیکٹو کمیٹی کو معطل

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان