تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کی اگلی نشست میں بیٹھنے سے انکار کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی کہتے ہیں اٹھائیس جنوری سے پہلے کسی بھی قسم کے اعلان کا ایک فیصد بھی امکان نہیں، جو بھی کہیں گے آمنے سامنے بیٹھ کر کہیں گے۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے 28 جنوری کو حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیوں کا چوتھا اجلاس طلب کرلیا ہے۔

تاہم، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے چند روز قبل بیرسٹر گوہر کے زریعے مذاکرات ختم کرنے کا پیغام بھجوایا۔

بعدازاں، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مذاکرات کی بحالی پر دوبارہ غور کرنے کے لیے حکومت کمیشن کا اعلان کرے۔

جس کے جواب میں سینیٹر عرفان صدیقی نے گزشتہ روز کہا کہ دباؤ میں آکر کمیشن بننے یا نہ بننے کا اعلان نہیں کریں گے۔

عرفاں صدیقی کا کہنا تھا کہ ان سے کہا ہے کہ اگرآپ کی بڑے گھر تک رسائی ہوگئی ہے تو ٹوٹے پھوٹے حجرے میں بیٹھنے کا فائدہ نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف پہلے یہ بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟ شرجیل میمن کا ردعمل
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ