پاک بحریہ نویں امن مشق اور پہلے امن ڈائیلاگ کی میزبانی کیلئے تیار
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 4 ہزار سے زائد افراد کی شرکت سے یہ خطے کی نمایاں ترین اور تاریخ ساز فوجی سرگرمی ہوگی، امن مشقیں 2007ء سے ہر 2 سال بعد منعقد کی جاتی ہیں۔ 2023ء میں ہونے والی آٹھویں امن مشقوں میں 50 ملکوں نے شرکت کی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ پاک بحریہ نویں امن مشق اور پہلے امن ڈائیلاگ کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق نویں بین الاقوامی امن مشق 7 سے 11 فروری تک منعقد کی جائے گی۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 4 ہزار سے زائد افراد کی شرکت سے یہ خطے کی نمایاں ترین اور تاریخ ساز فوجی سرگرمی ہوگی، امن مشقیں 2007ء سے ہر 2 سال بعد منعقد کی جاتی ہیں۔ 2023ء میں ہونے والی آٹھویں امن مشقوں میں 50 ملکوں نے شرکت کی تھی، امن مشق کا مقصد علاقائی امن و تعاون کو فروغ دینا ہے، امن مشق ہاربر اور سمندر کے مرحلوں پر مشتمل ہوتی ہے۔
امن 2025ء مشق کی افتتاحی تقریب پاکستان نیوی ڈاکیارڈ میں منعقد کی جائے گی، پاک میرینز اور اسپیشل سروسز گروپ (نیوی) کاؤنٹر ٹیررازم سے متعلق مہارت کا مظاہرہ کریں گے۔ سمندر میں میری ٹائم جرائم کے خلاف مشترکہ آپریشنز کی مشقیں بھی کی جائیں گی، امن مشق کا اختتام 11 فروری کو انٹرنیشنل فلیٹ ریویو کے ساتھ ہو گا، اختتامی تقریب میں اعلیٰ ترین غیرملکی اور ملکی شخصیات شرکت کریں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: منعقد کی
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔